صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 307 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 307

صحيح البخاری جلده ۳۰۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بڑھنے دیا۔بظاہر نظر میدان اُن کے لئے خالی تھا مگر جب ترکی فوج کشتیوں اور ڈونگوں میں سوار ہوئی تو دائیں بائیں چھپی ہوئی برطانوی فوجیں اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں۔یہ وہ طریقہ جنگ ہے جو تو ریہ کے وسیع مفہوم میں شامل ہے۔امام ابن حجر نے بھی لفظ تو ریہ کے تعلق میں یہ قول نقل کیا ہے : هُوَ فِي الْحَرْبِ أَخُذَ الْعَدُوِّ عَلَى غِرَّةٍ۔یعنی تو ریہ یہ ہے کہ دشمن کو غفلت میں رکھ کر اس پر حملہ کرنا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۱۳۸) غزوہ تبوک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ریہ سے کام نہیں لیا۔دور کا سفر تھا اور طاقتور دشمن کا مقابلہ۔اس لئے قبل از وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مشکلات واضح کر دیں تا وہ پوری طرح تیاری کر سکیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر جگہ تو ریہ سے کام نہیں لیا۔ہاں کبھی مناسب موقع محل پر تو ریہ سے کام لیا ہے۔ان ابواب میں جمعرات کو ، ظہر کے بعد اور مہینے کے آخر میں سفر کے لئے نکلنے کا جو ذکر ہے اور اس تعلق میں جو تین ابواب الگ قائم کئے گئے ہیں بعض شارحین کے نزدیک اس کی یہ وجہ ہے کہ ایسی روایتیں منقول ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سُورِكَ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ میری امت کے لئے جمعرات کے دن صبح سویرے نکلنا مبارک ہے۔ان ابواب سے یہ بتایا گیا ہے کہ سفر کے وقت کا تعلق حالات سے ہے۔چنانچہ آپ جمعرات کے سوا اور دنوں میں بھی سفر کے لئے نکلے۔امام ابن حجر کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے۔سبت کے دن بھی آپ سفر کے لئے لے۔باب ۱۰۵ کے عنوان میں اسی غرض سے بند کریب حضرت ابن عباس کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے کہ پانچ دن ذی قعدہ کے باقی تھے کہ آپ حج کے لئے مدینہ منورہ سے نکلے۔یہ ہفتہ کا دن تھا۔( فتح الباری جز ء۶ صفحہ ۱۳۹) باب ١٠٦: اَلْخُرُوجُ فِي رَمَضَانَ نکلر رضي رمضان میں سفر کرنا ٢٩٥٣: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ۲۹۵۳: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا کہ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ کہا: زُہری نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبید اللہ سے، اللهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ عبید اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيْدَ أَفْطَرَ رمضان میں نکلے اور آپ کا روزہ بھی تھا۔جب کدید قَالَ سُفْيَانُ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي میں پہنچے تو آپ نے افطار کیا۔سفیان نے کہا کہ اس تعلق میں دیکھئے المعجم الصغير للطبراني، حرف الهمزة، باب الألف من اسمه أحمد، نمبر ۶۵ -