صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 306 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 306

صحيح البخاری جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا درمیان سعی کر چکیں تو احرام کھول ڈالیں۔حضرت وَالْمَرْوَةِ أَنْ يُحِلَّ قَالَتْ عَائِشَةُ عائشہؓ کہتی تھیں: قربانی کے دن ہمارے پاس گائے فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرِ کا گوشت لایا گیا۔میں نے پوچھا: یہ کیسا ہے؟ تو فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ نَحَرَ رَسُوْلُ اللهِ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ۔ازواج کی طرف سے قربانی کی ہے۔سکی نے کہا: میں قَالَ يَحْيَى فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ نے قاسم بن محمد سے یہ بات بیان کی تو انہوں نے کہا: لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ أَتَتْكَ وَاللهِ بخدا! حضرت عائشہ نے یہ بات جیسی تھی ہو بہو ویسی بِالْحَدِيْثِ عَلَى وَجْهِهِ۔تم سے بیان کی ہے۔اطرافه ٢٩٤، ۳۰٥، ۳۱۶، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، ۱۵۱۶، ١٥۱۸، ١٥٥٦، ١٥٦٠، ،١٧٥، ١٧٦٢۷ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱١٥٦١، ١٥٦٢، ١٦٣٨، ٦٥٠ ،٤٣٩٥، ٤٤٠١ ،۲۹۸۶ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ،۱۷۷۱ ۷۲۲۹ ،٤٤٠٨ ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩ ٦١٥٧ فریح: مَنْ أَرَادَ الْغَزْوَ فَوَرَّى بِغَيْرِهَا : اس باب کا تعلق فوجی نقل و حرکت کی تنظیم سے ہے جو کامیاب جنگ کے لئے ضروری ہے۔توریة کے معنی اصل مقصد کو پس پردہ رکھنا ہیں۔ان ابواب میں جس راز داری کا ذکر ہے وہ لشکری کوچ اور فوجی قسم کی نقل و حرکت سے ہے نہ تمام سفروں سے۔گذشتہ عالمگیر جنگوں میں کئی محاذوں پر فتح و شکست اسی عمل تو ریہ سے ہوئی۔عالمگیر جنگ عظیم اوّل میں مجھے بعض محاذوں پر ذاتی مشاہدہ کا موقع ملا۔متواتر دو سال جنوبی ایلین بی کے خطہ قتال کا محاذ بحر ابیض کا وہ علاقہ رہا جو فلسطین کی سرحدوں کے متوازی تھا۔حکومت عثمانیہ کے فوجی افسروں کو یقین ہو چکا تھا کہ برطانوی فوجیں اس جہت سے فلسطین اور شام میں داخل ہونا چاہتی ہیں۔اس لئے اس نے اپنی قوت کا بیشتر حصہ ادھر جمع کر دیا۔لیکن جہاں سے اتحادی فوجیں داخل ہوئیں وہ وہ جگہیں تھیں جہاں عثمانی فوج کم تھی۔یہ حربی طریق تو ریہ کی تعریف میں آتا ہے اور یہی معنی ہیں الْحَرْبُ خُدْعَةٌ (روایت ۳۰۲۹) کے کہ جنگ واو فریب ہے۔خدعة کے معنی جھوٹ کے نہیں جو ممنوع ہے۔بغیر جھوٹ بولے اصل خطہ حرب اور عسکری نقل و حرکت پوشیدہ رکھ کر مد مقابل فوج کی توجہ اس جہت سے پھیری جاسکتی ہے جدھر سے حملہ کرنا مقصود ہو۔دشمن کو یقین ہوتا ہے کہ اصل مقابلہ کا محاذ سامنے ہے مگر حملہ عقب یا دائیں اور بائیں طرف سے ہوتا ہے۔اور دشمن خلاف توقع صورت حال کو دیکھ کر سراسیمہ ہو جاتا ہے اور اس اچانک تبدیلی سے اس کے لیے سنبھلنا مشکل ہوتا ہے۔۱۹۱۴ء کے اوائل میں ترکی فوج سے نہر سویز کے محاذ پر یہی واقعہ پیش آیا۔ترک نہر سویز عبور کر کے مصر میں گھسنا چاہتے تھے۔انگریزی فوج نے انہیں آگے