صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 302
صحيح البخاری جلده ٣٠٢ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير دے کہ اے اہل کتاب کم سے کم ایک ایسی بات کی طرف تو آجاؤ جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان برابر ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب بنایا کریں۔پھر اگر وہ پھر جائیں تو ان سے کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم خدا کے فرماں بردار ہیں۔( آل عمران: ۶۵) محولہ بالا آیات دعوت توحید اور ایمان بالنبوۃ میں ایک کامل پیغام حق ہیں۔مثبت اور منفی دونوں جہتوں سے اور اس عقیدہ ایمان سے متعلق تمام اہل کتاب ایک نقطہ وحدت پر آسانی سے متفق ہو سکتے ہیں۔باب ۱۰۲ کے تحت سات روایتیں منقول ہیں۔پہلی اور دوسری روایت کے لئے دیکھئے تشریح کتاب بدء الوحی، روایت نمبرے۔تیسری روایت میں صراحت ہے کہ آپ نے حضرت علی کو ہدایت کی کہ خیبر پرحملہ کرنے میں جلدی نہ کریں۔انہیں دعوت اسلام دیں۔اگر ان میں سے ایک شخص بھی راستی قبول کر لے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہیں۔چوتھی ، پانچویں اور چھٹی روایت حضرت انسؓ کی ہے جو تین سندوں سے نقل کی گئی ہے۔ان کا مضمون ایک ہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اچانک حملہ نہ کرتے ، نہ شبخون مارتے بلکہ اذان کے ذریعہ دعوت حق کا اعلان فرماتے۔کتاب الاذان باب ۸ روایت نمبر ۶۱۴ کی تشریح میں تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ اذان خود ایک دعوت تامہ ہے۔ساتویں روایت حضرت ابو ہریرہ کی ہے۔اس میں اسی مضمون کی حضرت عمرؓ اور حضرت ابن عمر کی روایت کا حوالہ بھی مذکور ہے۔حضرت ابن عمر کی روایت کتاب الایمان باب ۷ اروایت نمبر ۲۵ میں اور حضرت عمر کی روایت کتاب الزکاۃ روایت نمبر ۴۰۰ میں دیکھئے۔بَاب ١٠٣ : مَنْ أَرَادَ غَزْوَةً فَوَرَّى بِغَيْرِهَا جس نے کسی جنگ کے لئے نکلنے کا ارادہ کیا ہو اور پھر وہ کسی اور کام کا نام لے کر اسے مخفی رکھے وَمَنْ أَحَبَّ الْخُرُوْجَ يَوْمَ الْخَمِيْسِ اور جو جمعرات کو سفر کرنا پسند کرے۔٢٩٤٧: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۲۹۴۷ جی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث سے، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ کہا : عبد الرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے مجھے بتایا کہ عبداللہ } بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا اور عَبْدَ اللهِ * } بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت کعب کے بیٹوں میں سے یہی تھے جو انہیں وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيْهِ قَالَ (بوجہ کمزور بینائی کے ) پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكِ حِيْنَ تَخَلَّفَ انہوں نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالک سے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء۶ حاشیہ صفحہ ۱۳۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔