صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 301
صحیح البخاری جلده ۳۰۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عرض کیا کہ ان میں بت پرستی، زنا اور ربوا رائج ہے اور یہ باتیں ان کے اسلام قبول کرنے میں روک ہیں۔ وہ لوگ تو بد دعا کے مستحق ہیں۔ آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی جو خارق طور پر قبول ہوئی اور پھر یہی طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اسی نوے اشخاص کے ساتھ خیبر آئے۔ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور اس کے بعد قبیلہ دوس میں اسلام سرعت سے پھیلا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ ۲۰۸) اس تعلق میں کتاب المغازی باب ۷۵ بھی دیکھئے۔ باب ۔۔ اسے بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سراسر رحمت تھے۔ بد دعا میں جلدی کرنے والے نہ تھے۔ آپ نے بد دعا اسی وقت کی ہے جب ظلم حد سے گزر گیا اور ہدایت اور اصلاح کی کوئی امید باقی نہ رہی تھی۔ آپ کی دعا اور بددعا دونوں حسب موقع ومحل تھیں ۔ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ : باب ۱۰۱ ۱۰۲ کا تعلق ایک فقہی اختلاف سے ہے کہ آیا لڑائی سے پہلے دعوۃ الی الاسلام ضروری ہے یا نہیں؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے نزدیک ضروری ہے۔ اکثر فقہاء کا اس سے اتفاق ہے۔ لیکن امام مالک کے نزدیک جب اسلام پھیل گیا ہو اور اس کے اصول عام لوگوں کو معلوم ہو چکے ہوں اور کفار آمادہ جنگ ہو جائیں تو پھر ان کی لڑائی سے پہلے دعوت اسلام دینا ضروری نہیں ۔ البتہ اگر دور علاقے کی رہنے والی قوم ہو اور اس کی نسبت یقینی علم نہ ہو کہ وہ اسلام سے واقف ہے تو اسے جنگ سے پہلے دعوت اسلام دی جائے تا اتمام حجت ہو کر شک دور ہو کہ وہ مسلمانوں سے ناواقفیت میں تو جنگ نہیں کر رہے۔ ( فتح الباری کتاب الجہاد شرح باب ۱۰۱ جزء ۶ صفحہ ۱۳۲) اس تعلق میں فقہاء کا اتفاق ہے کہ لڑائی سے پہلے تبلیغ حق کرنا ضروری ہے اور ان سے لڑنا جائز نہیں ہے نیز اس تعلق میں کتاب الاذان باب ۶ بھی دیکھئے۔ يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَينِ إِلَى كِسْرَى: کسرائی سے مراد خسرو پرویز ہے اور بحرین سے بحیرہ فارس اور بحیرہ عرب ( دونوں سمندروں ) سے ملحقہ علاقہ جات ہیں جو ایرانی اثر ورسوخ کے تحت تھے۔ وَعَلَى مَا يُقَاتَلُونَ عَلَيْهِ : یہود و نصاری سے لڑائی کس بات پر ہو؟ اس کا جواب اسی دعوت نامہ کے الفاظ ہیں۔ مزید جواب بعد کے ابواب میں مفصل دیا گیا ہے۔ باب ۱۰۲ میں جن دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں سے پہلی آیت یہ ہے : مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولُ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُوْنِ اللَّهِ وَلَكِنْ كُوْنُوا رَتْنِينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ ) (آل عمران : ۸۰) ترجمه از حضرت خلیفة المسیح الرابع : کسی بشر کیلئے یہ مکن نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکمت اور نبوت دے پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اللہ کے علاوہ میری عبادت کرنے والے بن جاؤ۔ بلکہ ( وہ تو یہی کہتا ہے کہ ) ربانی ہو جاؤ ، بوجہ اس کے کہ تم کتاب پڑھاتے ہو اور بوجہ اس کے کہ تم (اسے) پڑھتے ہو۔“‘} اور دوسری آیت یہ ہے : قُلْ يَاهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ إِلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ یعنی تو کہ بداية المجتهد، كتاب الجهاد الجملة الأولى، الفصل الرابع فى شرط الحرب، جزء اول صفحہ ۲۸۲)