صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 301 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 301

صحيح البخاری جلده ۳۰۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عرض کیا کہ ان میں بت پرستی، زنا اور ربوا رائج ہے اور یہ باتیں ان کے اسلام قبول کرنے میں روک ہیں۔وہ لوگ تو بددعا کے مستحق ہیں۔آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی جو خارق طور پر قبول ہوئی اور پھر یہی طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اسی نوے اشخاص کے ساتھ خیبر آئے۔جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور اس کے بعد قبیلہ دوس میں اسلام سرعت سے پھیلا۔(عمدۃ القاری جزء ۴ صفحہ ۲۰۸) اس تعلق میں کتاب المغازی باب ۷۵ بھی دیکھئے۔باب ۱۰۰ سے بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سراسر رحمت تھے۔بددعا میں جلدی کرنے والے نہ تھے۔آپ نے بد دعا اسی وقت کی ہے جب ظلم حد سے گذر گیا اور ہدایت اور اصلاح کی کوئی امید باقی نہ رہی تھی۔آپ کی دعا اور بددعا دونوں حسب موقع محل تھیں۔الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَال : باب ۱۰۲۱۰۱ کا تعلق ایک فقہی اختلاف سے ہے کہ آیا لڑائی سے پہلے دعوۃ الی الاسلام ضروری ہے یا نہیں؟ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے نزدیک ضروری ہے۔اکثر فقہاء کا اس سے اتفاق ہے۔لیکن امام مالک کے نزدیک جب اسلام پھیل گیا ہو اور اس کے اصول عام لوگوں کو معلوم ہو چکے ہوں اور کفار آمادہ جنگ ہو جائیں تو پھر ان کی لڑائی سے پہلے دعوت اسلام دینا ضروری نہیں۔البتہ اگر دور علاقے کی رہنے والی قوم ہو اور اس کی نسبت یقینی علم نہ ہو کہ وہ اسلام سے واقف ہے تو اسے جنگ سے پہلے دعوت اسلام دی جائے تا اتمام حجت ہوکر شک دور ہو کہ وہ مسلمانوں سے ناواقفیت میں تو جنگ نہیں کر رہے۔(فتح الباری کتاب الجہاد شرح باب ۱۰۱ جزء 4 صفہ ۱۳۲ ) اس تعلق میں فقہاء کا اتفاق ہے کہ لڑائی سے پہلے تبلیغ حق کرنا ضروری ہے اور ان سے لڑنا جائز نہیں۔نیز اس تعلق میں کتاب الاذان باب ۶ بھی دیکھئے۔يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَينِ إِلَى كِسْرَى: کسرای سے مراد خسرو پرویز ہے اور بحرین سے بحیرہ فارس اور بحیرہ عرب ( دونوں سمندروں) سے ملحقہ علاقہ جات ہیں جو ایرانی اثر ورسوخ کے تحت تھے۔وَعَلَى مَا يُقَاتَلُوْنَ عَلَيْهِ : یہود و نصاری سے لڑائی کس بات پر ہو؟ اس کا جواب اسی دعوت نامہ کے الفاظ ہیں۔مزید جواب بعد کے ابواب میں مفصل دیا گیا ہے۔باب ۱۰۲ میں جن دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں سے پہلی آیت یہ ہے : مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللهُ الْكِتَبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولُ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِن كُونُوا رَبَّنِينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِمُونَ الكتب وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ ) (آل عمران: ۸۰) { ترجمه از حضرت خلیفہ المسیح الرابع : کسی بشر کیلئے یہ مکن نہیں کہ اللہ اُسے کتاب اور حکمت اور نبوت دے پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اللہ کے علاوہ میری عبادت کرنے والے بن جاؤ۔بلکہ (وہ تو یہی کہتا ہے کہ ) ربانی ہو جاؤ، بوجہ اس کے کہ تم کتاب پڑھاتے ہو اور بوجہ اس کے کہ تم (اسے) پڑھتے ہو۔} اور دوسری آیت یہ ہے : قُلْ يَاهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ إِلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرَى بهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ہ یعنی تو کہہ ط بداية المجتهد، كتاب الجهاد الجملة الأولى الفصل الرابع فى شرط الحرب، جزء اول صفحه ۲۸۲) 6