صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 300
صحيح البخاری جلد ۵ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ٢٩٤٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۹۴۶: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ سعید ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کا اس وقت تک مقابلہ کرتا رہوں جب تک کہ وہ یہ اقرار نہ کر لیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی يَقُوْلُوْا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ معبود نہیں۔ سو جس نے اقرار کر لیا کہ اللہ کے سوا اور کوئی إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا معبود نہیں تو یقینا اس نے اپنی جان کو اور اپنے مال کو بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ ۔ رَوَاهُ عُمَرُ بچالیا، اس کے سوا کہ وہ حق کے ساتھ لئے جائیں اور وَابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس شخص کا محاسبہ تو اللہ کے ذمہ ہے۔ حضرت عمرؓ اور وَسَلَّمَ۔ (حضرت عبداللہ ) بن عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے روایت کیا۔ تشريح : هَلْ يُرْشِدُ الْمُسْلِمُ أَهْلَ الْكِتَابِ أَوْ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ: باب کا عنان استفہامیہ ہے۔ اس استفتاء سے ایک فقہی اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ امام مالک کا فر کو قرآن مجید کی تعلیم دینا جائز نہیں سمجھتے کہ وہ طہارت وغیرہ آداب سے بے پروائی کرتا ہے۔ امام ابو حنیفہ نے اس کی اجازت دی ہے۔ امام شافعی نے بین بین کی راہ ا ما راہ اختیار کی ہے کہ غیر مسلم کی غرض اچھی ہو اور قرآن مجید سے متعلق ادب ملحوظ رکھتا ہو تو اسے تعلیم دی جائے اور اختر اگر اعتراض کرنا مقصود ہو اور ادب کا پاس نہ کرتا ہو تو ایسے شخص کو قرآن مجید کی تعلیم دینا مناسب نہیں۔ (فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۱۳۱) (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۲۰۷) امام بخاری امام شافعی کی رائے سے متفق ہیں۔ ارشاد و ہدایت اور تعلیم دینے کا استنباط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان خطوط سے کیا گیا ہے جو ہر قل وغیرہ بادشاہوں کو بھیجے گئے تھے۔ ہرقل کو جو خط لکھا گیا تھا، اس میں قرآن مجید کی یہ آیت بھی تھی : يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ۔۔۔ ( آل عمران: ۶۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد فی سبیل اللہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے تمام وسائل سے کام لیا ہے۔ استعداد حربی سے بھی ، دعوۃ الحق سے بھی اور دعا سے بھی۔ الدُّعَاءُ لِلْمُشْرِكِينَ بِالْهَدْيِ: بعض صحابہ قبیلہ دوس کی ہدایت سے یہاں تک مایوس تھے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بددعا کی درخواست کی لیکن آپ نے ہدایت کے لئے دعا فرمائی۔ طفیل بن عمرو دوسی نے ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں اسلام قبول کیا اور اپنی قوم کو تبلیغ کی مگر انہیں کامیابی نہ ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے