صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 12 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 12

صحیح البخاری جلده ۱۴ ۵۳ - كتاب الصلح رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ الْمَخْرَمِيُّ عبد اللہ بن جعفر مخرمی اور عبدالواحد بن ابی عون وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَبِي عَوْنٍ عَنْ سَعْدِ نے یہ حدیث یہ حدیث سعد بن ابران ابراہیم سے روایت کرتے ابْنِ إِبْرَاهِيمَ۔ ہوئے بتائی۔ تشريح : إِذَا اصْطَلَحُوْا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُودٌ: سابقہ باب سے جو نادانی پیدا ہوتی ہے اُس کا ازالہ اس باب میں کیا گیا ہے۔ جو صلح ظلم پر مبنی ہو، وہ بہر حال رو ہوگی ۔ جس حدیث کا حوالہ اس باب میں دیا گیا ہے اس کے لئے کتاب الوكالة باب ۳ ا روایت نمبر ۲۳۱۴-۲۳۱۵ دیکھئے۔ یہ روایت کتاب الحدود باب ۳۰ روایت نمبر ۶۸۲۷ - ۱۸۲۸ میں بھی آئے گی۔ وہاں مسائل متعلقہ حد زنا کی مفصل بحث ہوگی ۔ اس باب کا مفہوم یہ ہے کہ حدود اللہ کے خلاف صلح جائز نہیں اور حقوق سے متعلق تعزیرات میں صلح کی جا سکتی ہے۔ حدیث نمبر ۲۶۹۵-۲۶۹۶ ایک اُصولی قاعدہ پر مشتمل ہے اور اڈلہ شرعیہ کے لئے بطور بنیاد ہے اور ہر امر جو از روئے شریعت ناجائز ہے رڈ کئے جانے کے قابل ہے۔ صلح کی بنیاد نہ جھوٹ پر ہو نہ کسی اور ناجائز بات پر۔ يا انيس ۔۔۔۔ انیس جو انس کی تصغیر ہے۔ اس سے مراد بعض کے نزدیک حضرت انس بن ضحاک اسلمی نہیں۔ بعض شارحین کے نزدیک حضرت انس بن مالک یا انس بن ابی مرید غنوی ہیں۔ مگر مشہور اول الذکر ہیں۔ ( عمدة القاری جزء ۱۳۰ صفحه ۲۷۲) ( الإصابة في تمييز الصحابة، ذكر من اسمه أنيس، أنيس الأسلمى) جن اہل علم سے فتوئی دریافت کرنے کا ذکر ہے وہ خلفاء اربعہ اور انصار میں سے حضرت ابی بن کعب ، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ہو سکتے ہیں جنہیں عہد نبوی میں افتاء کی اجازت تھی۔ چونکہ روایت میں کسی عالم کا نام نہیں بتایا گیا ہے، اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مذکورہ بالا فتوئی انہی اصحاب میں سے کسی کا ہے۔ بَاب ٦ : كَيْفَ يُكْتَبُ هَذَا مَا صَالَحَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَإِنْ لَّمْ يَنْسُبْهُ إِلَى قَبِيْلَتِهِ أَوْ نَسَبِهِ ( صلح نامہ ) کیسے لکھا جائے؟ یہ وہ ( صلح نامہ ) ہے جس پر فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں نے صلح کی ہے اور اگر ( صلح کرنے والے کو ) اُس کے قبیلہ یا اُس کے شجرہ نسب کی طرف منسوب نہ کیا جائے ( تو کوئی حرج نہیں ) ٢٦٩٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۶۹۸ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمدۃ القاری میں الفاظ " فَلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَفُلَانُ بْنُ فُلَانٍ“ ہیں ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۲۷۵) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔