صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 297 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 297

صحیح البخاری جلده ۲۹۷ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير فَلَمَّا أَنْ خَرَجْتُ مَعَ أَصْحَابِي نکال دیئے گئے۔ جب میں اپنے ساتھیوں سمیت باہر وَخَلَوْتُ بِهِمْ قُلْتُ لَهُمْ لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ آیا اور ان سے تنہائی حاصل ہوئی تو میں نے ان سے کہا: حد ہوگئی۔ ابو کبشہ کے بیٹے کی تو دھاک بیٹھ گئی ہے۔ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ هَذَا مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ يَخَافُهُ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَاللَّهِ بنو اصفر (رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے ڈر رہا ہے۔ ابوسفیان کہتے تھے: بخدا! میں (اس دن سے ) اپنے مَا زِلْتُ ذَلِيْلًا مُسْتَيْقِنَا بِأَنَّ أَمْرَهُ تیں ذلیل ہی سمجھتا رہا۔ یہی یقین تھا کہ آپ کا سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ قَلْبِي سلسله ضرور غالب ہوگا یہاں تک کہ اللہ نے میرے الْإِسْلَامَ وَأَنَا كَارِهُ۔ دل میں اسلام کو داخل کر ہی دیا بحالیکہ یہ بات مجھے پسند نہیں تھی۔ اطرافه ٧، ٥١ ، ٢٦٨١، ۲۸۰٤، ۲۹۷۸ ، ۳۱۷۴، ٤553 ، ٥٩٨٠ ، ٦٢٦٠، ٧١٩٦، ٧٥٤١۔ ٢٩٤٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۹۴۲ : عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہم سے بیان کیا مَسْلَمَةَ القَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ کہ عبد العزيز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ کو غزوہ خیبر میں یہ کہتے سنا کہ اب یہ جھنڈا میں ایسے شخص عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا۔ یہ سن کر لوگ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ اُٹھے۔ آپ کی اس بات سے امید کرنے لگے کہ دیکھیں فَقَامُوْا يَرْجُوْنَ لِذَلِكَ أَيُّهُمْ يُعْطَى ان میں سے کس کو یہ جھنڈا) دیا جاتا ہے۔ صبح اُٹھے اور فَغَدَوْا وَكُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَى فَقَالَ ان میں سے ہر ایک کو یہ امید تھی کہ اسے (جھنڈا) ملے أَيْنَ عَلِيٌّ فَقِيلَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَأَمَرَ گا۔ آپ نے پوچھا: علی کہاں ہیں؟ کہا گیا کہ ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ آپ نے (انہیں بلانے کے لئے ) فَدُعِيَ لَهُ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ مَكَانَهُ فرمایا اور و فرمایا اور وہ لائے گئے ۔ آپ نے ان کی آنکھوں پر (اپنا) حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ فَقَالَ لعاب دہن لگایا اور انہوں نے اسی جگہ بیماری سے شفا نُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُوْنُوْا مِثْلَنَا فَقَالَ پائی ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کو بیماری ہوئی نہ تھی۔