صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 295
صحيح البخاری جلده ۲۹۵ ۵۶- كتاب الجهاد والسير الْإِيْمَانُ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ ہیں یا گھٹ رہے ہیں؟ تم نے کہا کہ وہ بڑھ رہے ہیں أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيْهِ اور ایمان اسی طرح بڑھتا جاتا ہے۔حتی کہ اپنے کمال فَزَعَمْتَ أَنْ لَّا فَكَذَلِكَ الْإِيْمَانُ حِيْنَ تک جاپہنچے اور میں نے تم سے پوچھا: کیا کوئی اس کے تَخْلِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ لَا يَسْخَطُهُ دین میں داخل ہونے کے بعد اس کے دین کو برا سمجھ کر مرتد ہوتا ہے؟ تم نے کہا: نہیں۔ایمان کی یہی حالت أَحَدٌ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ ہوتی ہے کہ جب اس کی بشاشت دلوں میں رچ جاتی أَنْ لَّا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا يَغْدِرُونَ ہے تو کوئی بھی اس کا منکر نہیں ہوتا۔میں نے تم سے وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ وَقَاتَلَكُمْ پوچھا: کیا وہ دعا کرتا ہے تو تم نے کہا، نہیں اور رسول فَزَعَمْتَ أَنْ قَدْ فَعَلَ وَأَنَّ حَرْبَكُمْ ایسے ہی ہوتے ہیں۔وہ دعا نہیں کیا کرتے اور میں نے وَحَرْبَهُ تَكُونُ دُوَلا وَيُدَالُ عَلَيْكُمْ تم سے پوچھا: کیا تم نے اس سے کبھی لڑائی کی اور وہ بھی الْمَرَّةَ وَتُدَالُوْنَ عَلَيْهِ الْأُخْرَى تم سے لڑا؟ تم نے کہا: ہاں لڑائی کی اور یہ کہ تمہاری اور وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى وَتَكُونُ لَهَا اِس کی لڑائی ڈول کی طرح ہوتی ہے کبھی وہ تم پر غالب آتا ہے اور کبھی تم اس پر غالب آتے ہو اور اسی طرح الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُكَ بِمَاذَا يَأْمُرُكُمْ رسولوں کی بھی آزمائش کی جاتی ہے اور انجام کار غلبہ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ انہی کو ہوتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا: وہ تمہیں کیا حکم وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ دیتا ہے؟ تم نے کہا کہ وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اللہ کی عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَيَأْمُرُكُمْ عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاءِ یہ کہ تمہیں ان چیزوں کی پرستش سے روکتا ہے جن کو بِالْعَهْدِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ قَالَ وَهَذِهِ تمہارے باپ دادے پوجتے تھے اور تمہیں نماز، صدقہ ، صِفَةُ نَبِيَّ قَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ عفت، ایفاء عہد اور اداءو امانت کا حکم دیتا ہے۔ہر قل نے کہا: اور یہی باتیں اس نبی کے اوصاف ہیں۔میں یقیناً وَلَكِنْ لَّمْ أَعَلَمْ أَنَّهُ مِنْكُمْ وَإِنْ يَكُ جانتا تھا کہ وہ عنقریب پیدا ہونے والا ہے۔لیکن میں مَا قُلْتَ حَقًّا فَيُوْشِكُ أَنْ يُمْلِكَ گمان یہ نہیں کرتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا جو کچھ تم نے مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَلَوْ أَرْجُو أَنْ کہا ہے اگر وہ سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ "لم أظنُ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ ۲۱۲ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔<<