صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 293
صحيح البخاری جلده ۲۹۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير قُلْتُ هُوَ فِيْنَا ذُو نَسَبٍ قَالَ فَهَلْ قَالَ کہا: نہیں۔پھر اس نے پوچھا: جو دعوئی اس نے کیا ہے، هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَبْلَهُ قُلْتُ لَا اس دعوی کرنے سے پہلے کبھی تم نے اس کو جھوٹ فَقَالَ كُنْتُمْ تَتَّهِمُوْنَهُ عَلَى الْكَذِب سے تم کیا ؟ ( ابوسفیان کہتے تھے ) میں نے کہا: نہیں۔اس نے پوچھا: کیا اس کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ قَبْلَ أَنْ يَقُوْلَ مَا قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ ہوا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔اس نے پوچھا: کیا لوگوں كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَّلِكٍ قُلْتُ لَا قَالَ میں سے بڑے بڑے اس کی پیروی کر رہے ہیں یا ان فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُوْنَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ میں سے کمزور؟ میں نے کہا: ان میں سے کمزور۔اس قُلْتُ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ فَيَزِيدُونَ نے پوچھا: کیا وہ بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ میں أَوْ يَنْقُصُوْنَ قُلْتُ بَلْ يَزِيْدُونَ قَالَ نے کہا: کم نہیں بلکہ بڑھ رہے ہیں۔اس نے پوچھا: کیا کوئی اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد پھر اس فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةٌ لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ دین سے نفرت کرتے ہوئے مرتد ہو جاتا ہے؟ میں نے يَدْخُلَ فِيْهِ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ يَغْدِرُ کہا نہیں۔اس نے پوچھا: کیا دغا بازی کرتا ہے؟ میں قُلْتُ لَا وَنَحْنُ الْآنَ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ نَحْنُ نے کہا: نہیں۔اور اب ہم اس کی طرف سے ایک میعادی نَخَافُ أَنْ يُغْدِرَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَلَمْ صلح میں ہیں۔ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہم سے دھوکا نہ کرے۔يُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيْهَا شَيْئًا ابوسفیان کہتے تھے۔اس کے سوا اور کوئی بات آپ کی أَنْتَقِصُهُ بِهِ لَا أَخَافُ أَنْ تُؤْثَرَ عَنِّي برائی کی مجھ کو نہیں ملی جو میں شریک کرتا اور مجھ کو اس پر اپنے ساتھیوں کے جھٹلانے کا ڈر نہ ہوتا۔اس نے پوچھا: غَيْرُهَا قَالَ فَهَلْ قَاتَلْتُمُوْهُ أَوْ قَاتَلَكُمْ کیا تم نے کبھی اس سے لڑائی کی یا تم سے وہ لڑا ہے؟ میں قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ كَانَتْ حَرْبُهُ نے کہا: ہاں۔پھر اس نے پوچھا: پھر اس کی اور تمہاری وَحَرْبُكُمْ قُلْتُ دُوَلا وَسِجَالًا يُدَالُ لڑائی کیسی رہی؟ میں نے کہا: کبھی ادھر کبھی اُدھر کبھی عَلَيْنَا الْمَرَّةَ وَنُدَالُ عَلَيْهِ الْأُخْرَى ہم پر وہ غالب آجاتا ہے اور کبھی ہم اس پر غالب آجاتے قَالَ فَمَاذَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ قَالَ يَأْمُرُنَا أَنْ ہیں۔پھر اس نے پوچھا: اچھا تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟ ابوسفیان نے کہا: ہمیں وہ یہ حکم دیتا ہے کہ ہم صرف اللہ نَّعْبُدَ اللهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ہی کی عبادت کریں۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ وَيَنْهَانَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَيَأْمُرُنَا ٹھہرائیں اور ہمیں ان معبودوں کی عبادت سے روکتا