صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 11
صحیح البخاری جلده || ۵۳ - كتاب الصلح بِامْرَأَتِهِ فَقَالُوا لِي : عَلَى ابْنِكَ الرَّجْمُ بدوی نے کہا: میرا بیٹا اس کے پاس نوکر تھا۔ اُس نے فَفَدَيْتُ ابْنِي مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ اس کی بیوی سے زنا کیا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا: تمہارا وَوَلِيْدَةٍ ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَقَالُوا: يا سنگسار ہونا چاہیے۔ میں نے اس کو ایک سو بکری اور ایک لونڈی دے کر اپنے بیٹے کو چھڑا لیا ہے۔ پھر اس إِنَّمَا عَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيْبُ کے بعد میں نے ، بعد میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عَامٍ۔ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تمہارے بیٹے کو تو صرف سو کوڑے پڑنے تھے اور ایک لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللهِ أَمَّا سال کے لئے جلا وطنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرَدٌ عَلَيْكَ وَعَلَی میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی سے فیصلہ کروں گا۔ ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيْبُ عَامٍ وَأَمَّا وہ لونڈی اور بکریاں جو ہیں وہ تو تمہیں واپس دی جائیں أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ فَاغْدُ عَلَى اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک امْرَأَةِ هَذَا فَأَرْجُمُهَا فَغَدَا عَلَيْهَا سال کے لئے جلا وطن کیا جائے ۔ اور ایک شخص سے (فرمایا :) انیس (بن ضحاک )! تم صبح اس شخص کی أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا ۔ بیوی کے پاس جاؤ اور اُسے سنگسار کرو۔ چنانچہ انیس صبح اُس عورت کے پاس گئے اور اُسے سنگسار کیا۔ اطراف الحدیث ۲۶۹۵ ۲۳۱۰، ۲۷۲۷، ٦٦٣٣ ٦٨٢٧، ٦٨٣٣، ٦٨٣٥، ٦٨٤٢، ٦٨٥٩، ٧١٩٣، ٧٢٥٨، ٧٢٦٠، ٧٢٧٨ اطراف الحدیث ۲۶۹۶: ۲۳۱۷، ٢٦٤٩، ٢٧٢٥، ٦٦٣٤، ٦٨٢٨، 6831، 6836، ۷۲۷۹ ،۷۲۵۹ ،۷۱۹٦٨٤٣ ، ٦٨٦٠، ٤ ٢٦٩٧: حَدَّثَنَا يَعْقُوْبُ حَدَّثَنَا ۲۶۹۷: یعقوب (بن ابراہیم ) نے ہم سے بیان کیا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ که ابراهيم بن سعد ( بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف ) ابْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ باپ نے قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق) ن ابی بکر صدیق) سے، قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہتی وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لَيْسَ فِيْهِ فَهُوَ رَدُّ۔ ہماری اس شریعت میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہیں تو وہ رو کی جائے گی۔