صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 289
صحيح البخاری جلده ۲۸۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير هَلَكَتْ دَوْسٌ قَالَ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا بددُعا کریں۔لوگوں نے کہا: دوس اب تباہ ہوئے۔وَائْتِ بِهِمْ۔اطرافه: ٤۳۹۲ ، ۶۳۹۷ آپ نے فرمایا: اے اللہ ! دوس کو ہدایت دے اور ان کو لے آ۔بَاب ۱۰۱ : دَعْوَةُ الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارَى وَعَلَى مَا يُقَاتَلُوْنَ عَلَيْهِ یہود اور نصاریٰ کو دعوت دین دینا اور ان سے کس بات پر لڑائی کی جائے وَمَا كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ اور قیصر کی طرف جو وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَالدَّعْوَةُ خط لکھے اور لڑائی سے پہلے دعوتِ اسلام دینا۔قَبْلَ الْقِتَال۔أَنَسًا ۲۹۳۸: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ :۲۹۳۸ علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ نے ہمیں بتایا کہ قتادہ سے روایت ہے۔انہوں نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ لَمَّا أَرَادَ کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔کہتے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ تھے: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کی طرف إِلَى الرُّومِ قِيْلَ لَهُ إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُوْنَ خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے کہا گیا کہ وہ خط نہیں كِتَابًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَحْتُوْمًا فَاتَّخَذَ پڑھتے مگر وہی جس پر مہر لگی ہو۔اس لئے آپ نے خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔گویا اب بھی اس انگوٹھی بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ وَنَقَشَ فِيْهِ مُحَمَّدٌ کی سفیدی کو آپ کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں اور آپ رَسُولُ اللهِ۔نے اس میں محمد رسول اللہ کندہ کرایا تھا۔اطرافه ٦٥ ٥٨٧٠ ،٥۸۷۲، ٥٨٧٤، ٥٨٧٥، ٥٨٧٧، ٧١٦٢۔۲۹۳۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۹۳۹ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَن ليث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا کہ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُقیل نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔