صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 287
صحیح البخاری جلده ۲۸۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَنَسِيْتُ السَّابِعَ ابو اسحاق نے کہا: میں ساتویں شخص کا نام بھول گیا۔ وَقَالَ يُوسُفُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ يوسف بن ابی اسحاق نے ابو اسحاق سے ( کبھی ابی أَبِي إِسْحَاقَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَقَالَ بن خلف کی بجائے ) امیہ بن خلف نقل کیا۔ اور شعبہ شُعْبَةُ أُمَيَّةُ أَوْ أُبَيَّ وَالصَّحِيحُ أُمَيَّةُ۔ نے کہا: امیہ ہے یا ابی ۔ اور صحیح اُمیہ ہے۔ اطرافه: ٢٤٠ ، ٥٢٠، ٣١٨٥، ٣٨٥٤، ٣٩٦٠۔ ٢٩٣٥ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۲۹۳۵: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي حماد بن زید ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ (ختمانی ) سے، ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے، ابن الْيَهُودَ دَخَلُوْا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله ابی ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ یہود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ انہوں نے کہا : السَّامُ عَلَيْكَ تو میں نے ان پر وَلَعَنْتُهُمْ فَقَالَ مَا لَكِ قَالَتْ أَوَ لَمْ لعنت کی ۔ آپ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ فَلَمْ تَسْمَعِي مَا کہا: آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا۔ آپ نے قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ۔ فرمایا: کیا تم نے وہ الفاظ نہیں سنے جو میں نے کہے۔ یعنی وَعَلَيْكُمْ کہ تم پر ہلاکت ہو۔ اطرافه: ٦٠٢٤ ، ٦٠٣٠، ٦٢٥٦، ٦٣٩٥، ٦٤٠١، ٦٩٢٧۔ صلى الله علی تشريح: الدُّعَاءُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بِالْهَزِيمَةِ وَ الزَّلْزَلَةِ: روایات زیر باب میں آنحضرت کی دعا اور دعوت الحق کا ذکر ہے۔ آپؐ نے جس طرح ظالم طبع دشمنوں کی بیخ کنی کے لیے دعائیں کیں۔ اسی طرح ان کی ہدایت کے لیے بھی دعائیں کیں نیز جنگ سے قبل اتمام حجت کی غرض سے ان کو امن و صلح کی دعوت دی اور انذار سے بھی کام لیا۔ اچانک حملہ کرنے اور شبخون کرنے سے منع فرمایا۔ (دیکھئے باب ۱۰۲، روایت نمبر ۲۹۴۵) دعا زَلْزِلْهُمْ سے مراد ہے : أَنْ تَطِيشَ عَقُوْلُهُمْ وَتَرْعَدَ أَقْدَامُهُمْ یعنی وہ حواس باختہ ہو جائیں اور اُن کے قدم اکھڑ جائیں اور سراسیمہ ہو کر بھاگ جائیں۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۱۳۰) ۔۔۔ : اس روایت کیلئے کتاب الوضوء باب ۶۹ روایت نمبر ۲۴۰، کتاب الصلاة باب ۱۰۹ أُمَيَّةُ وَأُبَيَّ روایت نمبر ۵۲۰ دیکھئے۔ ان میں امیہ بن خلف کا ذکر آتا ہے۔ عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ ”قُلْتُ“ ہے۔ (عمدۃ القاری جز ۱۴۰ صفحہ ۲۰۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔