صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 283
صحيح البخاری جلده ۲۸۳ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير اگلے ابواب میں جو نیا مضمون ہے اسے شروع کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں حرب وقتال سے متعلق فوجی استعداد کی صورت مجملاً بیان کر دی جائے جو سابقہ ابواب سے اخذ ہوتی ہے۔مجاہدین کی ترتیب صفوف کے متعلق بتایا جا چکا ہے کہ وہ چھ حصوں میں منقسم تھی: (۱) طبیعہ یعنی ہر اول دستہ فوج جو تجسس و خبر رسانی کا فرض ادا کرتا تھا۔حالات کے پیش نظر اس کی تعداد ایک بھی ہوتی اور زیادہ بھی۔(۲) قلب یعنی مرکزی فوج۔(۳) مؤخر الجیش۔(۴) میمنہ یعنی راست - (۵) میسرہ یعنی چپ۔(۶) محفوظ فوج یعنی کمک۔پانچ حصوں کو خمیس کا نام دیا گیا تھا۔وہ عملا کار زار میں کام کرنے والے تھے۔ان چھ حصوں کو نقل و حرکت کے لحاظ سے خیالہ (اسپ سوار )، رجالہ ( پیاده)، هجانه ( شتر سوار ) جماله ( بار بردار) کے نام دیئے گئے تھے اور اسلحہ کے لحاظ سے بھی ایک تقسیم تھی۔زما یانبالہ ( تیرانداز )، رماحته (نیزه بردار ) ، حرابته (برچھی دار)، الدارعہ (زره پوش) ، درعیہ (ایسے تیر یا بھالے جو زرہ میں گھس جاتے اور اسے توڑ دیتے تھے۔زیرہ دو قسم کی تھی چھوٹی اور بڑی۔خود بھی استعمال ہوتے تھے۔عرب میں تلواریں، نیزے، بھالے اور تیر کمان اعلیٰ درجہ کے بنتے تھے۔یہ سامان عُدة حَرَبِيَّة کہلاتا تھا۔عُدَّة کے معنی ہیں ساز و سامان۔ارشاد باری تعالیٰ میں وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ (الأنفال :۶۱) میں علاوہ اخلاقی قدروں کے اسی عد حربیہ کا ذکر ہے۔ترتیبات عسکریہ اور ساز و سامان حربیہ میں بعہد خلاف اولیٰ ترقی ہوئی۔عسکری ترتیب بحیثیت قائد حرب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دیتے تھے۔جیسا کہ قرآنِ مجید کی آیت وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوَى الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ه (آل عمران : ۱۲۲) میں مذکور ہے اور اگلے باب میں اس کی تصریح ہے اور اس کا ذکر کتاب المغازی میں بھی مفصل آئے گا۔باب ۹۷ : مَنْ صَفَّ أَصْحَابَهُ عِنْدَ الْهَزِيْمَةِ وَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ فَاسْتَنْصَرَ شکست کے وقت جو اپنے ساتھیوں کو صف بستہ کھڑا کرے اور اپنی سواری سے اُتر آئے اور نصرت کی دعا مانگے ۲۹۳۰ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ :۲۹۳۰ عمرو بن خالد نے ہمیں بتایا۔زہیر نے ہم سے الْحَرَانِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو بیان کیا کہ ابو اسحق نے ہمیں بتایا۔کہتے تھے : میں نے إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ وَسَأَلَهُ حضرت برائو سے سنا اور ان سے ایک شخص نے پوچھا تھا: ابو عمارہ ! تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے۔انہوں نے رَجُلٌ أَكُنْتُمْ فَرَرْتُمْ يَا أَبَا عُمَارَةَ يَوْمَ کہا: نہیں، اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی حُنَيْنٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُوْلُ اللَّهِ پیٹھ نہیں پھیری۔لیکن بات یہ تھی کہ آپ کے ساتھیوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ خَرَجَ میں سے کچھ نوجوان اور ان میں سے وہ جن کے پاس