صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 282 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 282

صحيح البخاری جلده PAY ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بخارا تک، مغرب میں تو نس تک ، شمال میں بحیرہ قزوین (کیسپین ) اور جنوب میں بحر ہند کے ساحل تک ممتد و متسع ہو گئی۔فتوحات اسلامی کی اس وسعت کے تعلق میں ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا پیشگوئیوں کے ذکر میں عیسائی مؤرخ فلپ حتی استاذ آداب اللغات السامۃ اپنی کتاب تاریخ العرب میں رقمطراز ہیں: اگر ساتویں صدی عیسوی کے شروع میں ان میں سے کوئی یہ پیشگوئی کرنے کی جرات کرتا کہ جزیرہ عرب کے صحرا میں ایسی بے نظیر طاقت قائم ہوگی جس کی شان و شوکت کی تاریخ عالم میں مثال نہیں ملتی اور یہ کہ وہ دنیا کی دو یکتائے روزگار حکومتوں کا اس زمانہ میں میں مقابلہ کر کے ان میں سے ایک یعنی ساسانی حکومت کی قائمقام بن جائے گی اور دوسری حکومت حکومت الہیز نطینہ کو اس کے نہایت ہی دولت مند صوبوں سے محروم کر دے گی۔میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی اس قسم کی پیشگوئی پر اس وقت جرات کرتا تو لوگ اُسے یقینا پاگل سمجھتے۔مگر ہوا یہی کیلیے جرمن مؤرخ وان کریمر (Van Kremer) اور انگریز مؤرخ ولیم میور ( William Muir) نے بھی اپنی تصانیف میں یہی اعتراف کیا ہے۔ابواب مذکورہ بالا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکاشفات کا ذکر اس غرض سے کیا گیا ہے تا یہ بنایا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کس قدر برکات کے وارث بنائے جاتے ہیں۔باب ۹۵ میں جن لوگوں سے لڑائی کرنے کا ذکر ہے اس سے علامہ ابن حجر کے نزدیک زنادقہ مراد ہیں۔جن کا سردار بابک تھا جو خلیفہ مامون کے زمانے (۲۰۱ھ ) میں ایران پر چھا گیا تھا۔آخر وہ خلیفہ معتصم کے زمانہ میں قتل ہوا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۱۲۷) باب ۹۵ میں ترکوں اور ان لوگوں کا جو حلیہ بیان ہوا ہے وہ تقریباً ایک ہی ہے اور اس سے ظاہر ہے کہ یہ مغولی قبائل ہیں اور ترک ان کی ایک شاخ ہیں۔جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ نہایت خونریز جنگیں کیں اور آخر اسلام قبول کر کے اسلامی سلطنت کی وسعت اور قسطنطنیہ سے متعلق مذکورہ بالا پیشگوئی کے پورا کرنے کا آخری سبب بنے جس کی ابتداء حضرت معاویہ کے عہد میں ہوئی تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ پیشگوئی ہی دراصل محرک تھی ہر مسلمان حکمران کے لئے کہ وہ اس کی فتح کا سہرا باندھے۔"If someone in the first third of the seventh Christian century had had the audacity to prophesy that within a decade or so some unheralded, unforeseen power from the hitherto barbarous and little-known land of Arabia was to make its appearance, hurl itself against the only two world powers of the age, fall heir to the one (the Sasanid) and strip the other (the Byzantine) of its fairest provinces, he would undoubtedly have been declared a lunatic۔Yet that was exactly what happened۔" (The Arabs A Short History by Philip Khuri Hitti, Islam on the March, page 56)