صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 281
صحيح البخاری جلده PAI ۵۶ - كتاب الجهاد والسير الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً صِغَارَ سے ، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے الْأَعْيُن ذُلْفَ الْأَنُوْفِ كَأَنَّ وُجُوْهَهُمُ ہوئے اتنا اور بڑھایا کہ وہ چھوٹی آنکھوں والے، چھوٹی پھیلی ہوئی ناکوں والے ہیں۔گویا ان کے منہ الْمَجَانُ الْمُطْرَقَةُ۔اطرافه: ۲۹۲۸، ۳۵۸۷، ۳۵۹۰، ۳۵۹۱ تشریح: ڈھالیں ہیں جن پر چمڑا تہہ بہ تہہ ہو۔ان ابواب میں بعض پیشگوئیوں کا ذکر ہے جن کا تعلق یہودیوں، رومیوں، ترکوں اور ایرانیوں کے ساتھ جنگ کرنے سے ہے۔یہ جنگیں ہوئیں جن کی تفاصیل تاریخ اسلامی میں ملاحظہ ہوں۔ان جنگوں کے نتائج میں مشرق و مغرب کے ممالک مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔یہود کی حالت زار؛ ان کی پے در پے غداریوں ، شدید دشمنی اور مسلسل منصوبوں کی پاداش میں یہ ہو گئی تھی کہ ان کے لئے پناہ کی کوئی جگہ نہ رہی۔انہیں کہیں امن نصیب نہ ہوا۔رومیوں اور ایرانیوں نے صحابہ کرام سے لڑائی میں سبقت کی۔یہودیوں نے ان دونوں کو اکسانے اور برانگیختہ کرنے میں بڑا حصہ لیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ پیشگوئی کے مطابق ارضِ حجاز سے ان کی صف لپیٹ دی گئی۔نہ تو رومی سلطنت میں انہیں چین نصیب ہوا اور نہ ایرانی سلطنت میں۔رومیوں نے مسلمانوں سے ارضِ حجاز و شام وغیرہ میں جو تعرض کیا تھا، دنیا نے دیکھ لیا کہ ان کا انجام کیا ہوا اور کس طرح عہد خلافت ثالثہ کے اوائل ہی میں رومیوں کو مصر وغیرہ سے کوچ کرنا پڑا اور جب حضرت علی کے عہد خلافت میں مسلمانوں کی خانہ جنگیوں کا دور دورہ شروع ہوا تو رومیوں کو اپنی کھوئی ہوئی جاہ وحشمت کے بازیافت کی سوجھی اور انہوں نے شام وغیرہ ممالک عربیہ پر حملہ کرنے کی تیاری کی تو حضرت معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کی قیادت میں قسطنطنیہ کی طرف فوج بھیجی جس میں حضرت ابوایوب انصاری جیسے سپہ سالار بھی تھے تا رومیوں کو ملک میں گھسنے کی جرات نہ ہو۔یہ پہلا حملہ تھا جو ۵۲ھ میں ہوا۔اگر چہ سلطنت رومانیہ اس حملہ سے فتح نہیں ہوئی۔مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا دروازہ کھل گیا اور آخر آٹھویں صدی ہجری میں سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں سے پوری شان کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچی۔یہی انجام ایرانی سلطنت کا ہوا۔خسرو پرویز سے اس کی ابتداء ہوئی جس کا اثر و نفوذ یمن میں تھا۔اس نے (العیاذ باللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری اور اپنے دربار میں حاضری کا فرمان بھیجا اور آپ کا دعوت نامہ برسرِ دربار پھاڑ کر پھینک دیا۔حضرت ابو بکٹر کے عہد خلافت میں اس کے جانشینوں نے مرتدین مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور طلیحہ کی پیٹھ ٹھونکی اور ذخائر اور مشیر ان حرب کے ذریعہ ان کی مدد کی۔جیسا کہ انہی دنوں رومیوں نے بھی سجاح وغیرہ کی امداد میں بڑا حصہ لیا اور ان کی طرف سے عراق، فارس اور بلاد عرب میں یورشوں نے آخر وہ دن دکھایا کہ ایرانیوں کو مملکت ایران سے ہاتھ دھونا پڑا اور رومیوں کو صرف سات سال کی مدت میں ملک شام جہاں وہ سات صدیوں سے حکمران تھے چھوڑنا پڑا۔ان دونوں سلطنتوں کا ان ملکوں سے نام و نشان مٹ گیا اور سارے عالم نے مقدس جہاد کی برکات کا محیر العقول معجزہ دیکھا کہ کل میں سال کے عرصہ میں حضرت عمر کی وفات سے قبل اسلامی حکومت مشرق میں