صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 10 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 10

صحيح البخارى جلده ۵۳ - کتاب الصلح خوب واقف ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شقاق ( نا چاقی ) کے طبعی سبب کی طرف توجہ دلائی ہے جو بسا اوقات صلح کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے اور یہ طبعی سبب شیخ نفس ہے۔عام طور پر الشخ کا ترجمہ بخل کیا جاتا ہے۔اصل معانی کے لحاظ سے بخل اور الشُّع میں بڑا فرق ہے۔بخیل دوسروں کو نہیں دیتا۔شعیع اپنے نفس سے بھی بخل کرتا ہے اور حرص اُس پر اتنی غالب ہوتی ہے کہ دوسروں کا حق غصب کرتے بھی اُس کی طمع کم نہیں ہوتی۔شحاح اُس چقماق کو کہتے ہیں جو آگ نہ دے۔خاوند بیوی کے درمیان جھگڑے عموماً اسی طبعی نقص سے پیدا ہوتے ہیں کہ خاوند گھر یلو ضرورتیں پوری کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے یا بیوی ضرورت سے زیادہ حریص ہوتی ہے، قناعت سے کام نہیں لیتی۔زیر باب روایت میں حضرت عائشہ نے فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلحًا کی جو وضاحت مثال دے کر کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ معاشرہ میں صلح ایسی ضروری شئے ہے کہ اگر حق چھوڑ کر بھی حاصل ہو تو کسی فریق کا اس غرض سے حق چھوڑ دینا گناہ کی بات نہیں۔ایک اعلیٰ غرض کے لئے اپنا حق چھوڑ نا کوئی گناہ کی بات نہیں ، بشر طیکہ وہ حق فریقین کی رضامندی سے چھوڑا جائے۔حضرت عائشہ کے الفاظ لَا بَأسَ إِذَا تَرَاضَيَا کا یہی مفہوم ہے۔قرآنِ مجید میں زوجین کے درمیان صلح کرانے کے لئے ایک طریق ثانی بھی تجویز کیا گیا ہے۔مگر اس بیرونی مداخلت سے قبل خاوند بیوی ہی کو نیک تلقین کی گئی ہے کہ صلح کی صورت ہی سب سے بہتر ہے، جس نیک طریق سے بھی ہو سکے۔بَابه : إِذَا اصْطَلَحُوْا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ فَالصُّلْحُ مَرْدُوْدٌ اگر لوگ ظالمانہ فعل پر آپس میں صلح کر لیں تو یہ صلح رڈ کی جائے گی ٢٦٩٥ - ٢٦٩٦: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ۲۶۹۵-۲۶۹۶: آدم ( بن ابی ایاس) نے ہمیں ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ بتایا۔ابن ابی ذئب نے ہم سے بیان کیا کہ زہری نے عُبَيْدِ اللهِ بْن عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے، انہوں وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللهُ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید بن خالد جہنی عَنْهُمَا قَالَا: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اُن دونوں نے کہا: ایک يَا رَسُوْلَ اللهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ۔بدوی آیا اور اُس نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی کتاب فَقَامَ خَصْمُهُ فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیں۔اُس کا بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللهِ۔فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: مخالف اُٹھا اور بولا: اس نے سچ کہا ہے اللہ کی کتاب إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيْفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى ہی کی رُو سے ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیں۔اُس