صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 277
صحيح البخاری جلده ۲۷۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير الغرض مَا قِيلَ فِي دِرْعِ النَّبِبي۔۔۔کے الفاظ سے عنوان باندھنے سے غلط خیال کی تردید مقصود ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ تو کل کا مقام توسل بالاسباب کی ضد نہیں، بلکہ اس سے بالا ہے۔اسباب الہی بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پیدا کردہ ہیں اور ان سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق بھی اسی کے فضل سے ملتی ہے۔شرک تو یہ ہے کہ اسباب پر بھروسہ کیا جائے نہ یہ کہ ان سے فائدہ نہ اُٹھایا جائے۔بلکہ وسائل حفاظت اختیار کرنے کے بارے میں ارشاد حُدُوا حِدْرَكُمُ (النساء: ۷۲) اور ارشاد وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمُ (النساء:۱۰۳) سے واضح ہے کہ مسلح ہو کر اسلحہ کواستعمال نہ کرنا ارشاد باری تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔غزوہ احد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزر ہیں کیے اور خود پہنا اور ہتھیاروں سے مسلح ہوئے اور حضور نے عمل بتا دیا کہ توکل کا مقام توسل بالاسباب کے مخالف نہیں۔تو کل اور توسل کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔سو تم خدا سے صدق کے ساتھ پنجہ مارو۔تاؤہ یہ بلائیں تم سے دور رکھے۔کوئی آفت زمین پر پیدا نہیں ہوتی جب تک آسمان سے حکم نہ ہو اور کوئی آفت دور نہیں ہوتی جب تک آسمان سے رحم نازل نہ ہو۔سو تمہاری عظمندی اسی میں ہے کہ تم جڑ کو پکڑو نہ شاخ کو۔تمہیں دوا اور تدبیر سے ممانعت نہیں ہے، مگر ان پر بھروسہ کرنے سے ممانعت ہے اور آخر وہی ہوگا جو خدا کا ارادہ ہوگا۔اگر کوئی طاقت رکھے تو تو کل کا وو 66 مقام ہر ایک مقام سے بڑھ کر ہے۔(کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۳) باب نمبر91 کی روایتوں سے یہ بتایا گیا ہے کہ ریشم کا لباس جس کا پہننا مردوں کے لئے ممنوع ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت خارش اسے پہننے کی اجازت دی۔عمل صالح کی تعریف یہ ہے کہ وہ موقع محل اور تقاضائے حالات کے مطابق کیا جائے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اور امن دونوں حالتوں میں ہر قسم کا لباس موقع محل کی رعایت سے استعمال فرمایا۔باب ۹۳: مَا قِيْلَ فِي قِتَالِ الرُّوْمِ نصاری کی لڑائی کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے ٢٩٢٤ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ :۲۹۲۴ احق بن یزید دمشقی نے مجھے بتایا کہ مکی بن الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حمزہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ثور بن یزید نے مجھے بتایا۔قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ انہوں نے خالد بن معدان سے روایت کی کہ عمیر ابْنِ مَعْدَانَ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ الْأَسْوَدِ بن اسود عنسی نے ان سے بیان کیا کہ وہ حضرت عبادہ حمد (سنن أبي داود، كتاب الجهاد، باب في لبس الدروع