صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 276 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 276

صحيح البخاری جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَابِ ۹۲ : مَا يُذْكَرُ فِي السِّكِّيْنِ چھری سے متعلق جو بیان کیا جاتا ہے ۲۹۲۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۲۹۲۳: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا۔عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ انہوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے جعفر بن عمرو بن امیہ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ ضمری سے جعفر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں عَمْرِو ابْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِي عَنْ أَبِيْهِ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ سلم کو دیکھا۔آپ شانے قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا گوشت کھا رہے تھے اور آپ اسے چھری سے کاٹ يَأْكُلُ مِنْ كَتِفٍ يَحْتَزُّ مِنْهَا ثُمَّ دُعِيَ رہے تھے۔پھر نماز کے لئے آپ بلائے گئے۔آپ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأُ نے نماز پڑھائی اور ( باوضو ہونے کی وجہ سے ) وضو نہیں کیا۔ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی اور انہوں نے یہ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فَأَلْقَى السِّكِّيْنَ۔زائد بیان کیا کہ جب آپ نماز کیلئے بلائے گئے تو ) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ۔آپ نے چھری رکھ دی۔اطرافه ،۲۰۸، ٦٧٥، ٥٤۰۸ ٥٤٢٢ ٠٥٤٦٢ تشریح: دِرْعِ النَبِي لَةِ وَالْقَمِيصِ فِي الْحَرْبِ : ان ابواب میں جو روایتیں نقل کی گئی ہیں، ان میں ایسے لباسوں کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام بحالت حرب وسلم پہنا کرتے تھے اور باب ۹۲ میں چھری کے استعمال کا بھی ذکر ہے۔باب ۸۹ کا عنوان بھی مَا قِيلَ سے قائم کیا گیا ہے۔اس میں ان لوگوں کے غلط خیال کی تردید کی گئی ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلحہ بند ہونے کو منشاء آیت وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: ۶۸) کے خلاف سمجھا ہے۔ایسے لوگوں کے خیال کے مطابق جب اللہ تعالیٰ آپ سے وعدہ کر چکا تھا کہ وہ دشمنوں کے حملوں سے آپ کو محفوظ رکھے گا تو آپ کا ظاہری سامان حفاظت سے کام لینا ارشاد باری تعالیٰ کے منافی تھا۔ان لوگوں کے نزدیک اس آیت نے خُذُوا حِذْرَكُمُ (النساء: (۷۲) کا ارشاد آپ کے حق میں منسوخ فرما دیا تھا۔یہ وہ قول ہے جو اس باب میں رڈ کرنا مطلوب ہے۔چنانچہ غزوہ بدر کے نازک ترین مقام میں آپ کے تو کل علی اللہ کا نمونہ خارق عادت طور پر ظاہر ہے۔لیکن اس توکل کے باوجود آپ نے جنگ کے وقت زرہ پہنچی اور پھر آپ کی یہ زرہ وفات تک آپ کے پاس رہی اور چند صاع اناج کے بدلے ایک یہودی کے پاس رہن بھی ہوئی اور بعد ازاں وہ استعمال میں رہی اور فروخت نہیں کی گئی۔یہ استدلال ہے امام موصوف کا۔