صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 272
صحيح البخاری جلده ۲۷۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ خیمہ میں تھے۔اے میرے اللہ! میں تجھے تیرے ہی عہد تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرِ بِيَدِهِ اور تیرے ہی وعدہ کی قسم دیتا ہوں۔اے میرے اللہ ! اگر فَقَالَ حَسْبُكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَدْ تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔اتنے میں حضرت ابوبکر نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔انہوں أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ فِي الدِرْعِ نے کہا: یا رسول اللہ ! بس کیجئے۔آپ نے اپنے ربّ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُوْلُ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ سے دعا مانگنے میں بہت اصرار کر لیا ہے اور آپ زرہ میں وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَه بَلِ السَّاعَةُ تھے۔آپ خیمے سے نکلے اور آپ یہ پڑھ رہے تھے: مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ اَدھی وَ أَمَرُّ عنقریب یہ سب کے سب شکست کھا جائیں گے اور بیٹھ (القمر : ٤٦-٤٧) پھیر دیں گے اور یہی وہ گھڑی ہے جس سے ڈرائے گئے تھے اور یہ گھڑی نہایت سخت اور نہایت تلخ ہے۔وَقَالَ وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَوْمَ بَدْرٍ۔اور وہیب نے کہا کہ خالد نے ہمیں بتایا: یہ بدر کی اطرافه ٣٩٥٣ ٤٨٧٥، ٤٨٧٧۔جنگ کا دن تھا۔٢٩١٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۲۹۱۶ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ( بن عيينه ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، إِبْرَاهِيْمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ امس نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے اسود رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللَّهِ ہے ، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُوْنَةٌ کی۔کہتی تھیں : رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیں صاع جو عِنْدَ يَهُودِيَ بِثَلَاثِيْنَ صَاعًا مِنْ شَعِيْرِ۔وَقَالَ يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ دِرْعٌ مِنْ حَدِيْدٍ۔وَقَالَ مُعَلَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنِ الْأَعْمَشِ وَقَالَ رَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ۔کے عوض رہن تھی۔اور یعلی نے کہا: اعمش نے ہم سے (یوں ) بیان کیا کہ لوہے کی زرہ (رہن تھی۔) اور معلیٰ نے یوں کہا: عبدالواحد نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش سے روایت ہے اور انہوں نے کہا کہ آپ نے اس کے پاس لوہے کی زرہ رہن رکھی۔اطرافه: ٢٠٦٨، ۲۰٩٦، ۲۲۰۰، ٢٢٥۱، ٢٢٥٢، ٢٣٨٦، ٢٥٠٩، ٢٥١٣، ٤٤٦٧۔