صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 9 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 9

صحیح البخاری جلده १९ ۵۳ - كتاب الصلح نُصْلِحُ باب نمبرا کی تشریح میں اہل قباء کی مصالحت کا واقعہ گزر چکا تشريح : قَوْلُ الْإِمَامِ: اِذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ ------- ہے۔ فریقین کے درمیان صلح کرانا اور اُن کو فتنہ سے بچانا معاشرہ کے واجبات سے ہے۔ اس روایت کے تعلق میں کتاب الایمان روایت نمبر ۳۱ کی تشریح بھی دیکھئے۔ باب ٤ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (النساء: ۱۲۹) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اگر میاں بیوی دونوں کسی طرح صلح کر لیں اور صلح کرنا ہی سب سے اچھی بات ہے ٢٦٩٤ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۶۹۴: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : وَ اِن سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے امْرَأَةً خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: أَوْ إِعْرَاضًا (النساء: ۱۲۹) قَالَتْ : هُوَ (آیت إِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا یعنی اگر سی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے بد معاملگی یا عدم توجہ کا خوف الرَّجُلُ يَرَى مِنِ امْرَأَتِهِ مَا لَا يُعْجِبُهُ ہو تو اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی بیوی میں ناپسندیدہ كِبَرًا أَوْ غَيْرَهُ فَيُرِيدُ فِرَاقَهَا فَتَقُوْلُ : بات دیکھتا ہو، بڑھاپے کی و وجہ سے یا اس کے علاوہ کسی اور أَمْسِكْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا شِئْتَ ۔ قَالَتْ : سبب سے۔ اور اس سے الگ ہونا چاہتا ہو، وہ (عورت) وَلَا بَأْسَ إِذَا تَرَاضَيَا۔ یہ کہے: تم مجھے اپنے پاس ہی رکھو اور میرے لئے جو تم چاہو حصہ مقرر کر دو۔ (حضرت عائشہ) کہتی تھیں: کوئی حرج نہیں اگر وہ آپس میں اس طرح راضی ہو جائیں۔ اطرافه ٢٤٥٠، ٤٦٠١، ٥٢٠٦۔ -------- تشريح : أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحا والصُّلْحُ خَيْرٌ : عنوانِ باب میں جس آیت کا حوالہ در یت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ خاوند اور بیوی کی نا چاقی سے متعلق ہے، پوری آیت یہ ہے: وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ * وَاحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشَّحَّ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ( النساء: ۱۲۹) یعنی اگر کسی عورت کو اپنے خاوند سے بدسلوکی یا روگردانی کا اندیشہ ہو تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ کسی طریق پر آپس میں صلح کر لیں اور صلح سراسر بہتر ہے۔ ( صلح کرنے میں ) نفس بالطبع بخل کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور اگر تم نیکی اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال سے