صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 270 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 270

صحيح البخاری جلده ۲۷۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ہوتا ہے نہ کہ تیر کا لفظ گھب کے معنی ہیں قریب ہوا اور بعض نے اکتب کے معنی گائو کئے ہیں۔یعنی جب حملہ بڑی تعداد میں جتھے کی صورت میں ہو تو اسے منتشر کرنے کے لئے تیروں سے کام لو۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۱۱۳) كَتَبَ مِنْہ کے معنی ہوتے ہیں دَنَی مِنْہ۔یعنی نزدیک ہوا اور كَتَبَ إِلَيْهِ أَى حَمَلَ عَلَيْهِ۔یعنی اس پر حملہ کیا۔(اقرب الموارد-کشب) اس لئے ارشادِ نبوى إِذَا أَكْتَبُوكُمْ فَعَلَيْكُمُ بِالنَّبلِ کا سیدھا سادھا ترجمہ یہ ہے جب حملہ کرنے کے لئے تمہاری طرف بڑھیں تو تم تیروں سے انہیں قریب آنے سے روکو۔استقب باب افعال سے ہے جو ازالہ کے لئے آتا ہے۔یعنی قریب نہ آنے دو۔اگر چہ اسلحہ کی نوعیت بدل گئی ہے تاہم جنگ میں اس قاعدہ پر عمل ہوتا ہے کہ دشمن کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے دور تک مار کرنے والی تو ہیں اور بندوقیں استعمال میں لائی جاتی ہیں۔روایت نمبر ۲۹۰۳۰۲۹۰۲ کا تعلق غزوۂ احد سے ہے۔ان روایتوں سے سیرت صحابہ وصحابیات کا علم ہوتا ہے کہ انہوں نے میدان قتال میں کس طرح جوش و خروش سے جہاد کیا تھا۔اکثر صحابہ کرام فن سپاہ گری میں پوری پوری مہارت رکھنے والے تھے۔غزوہ احد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ڈھال سے اوٹ کئے ہوئے تھے تا حضرت طلحہ بے خوف و خطر تیر چلا سکیں۔(دیکھئے کتاب المغازی باب ۸) الدَّرَقُ : دَرَق جمع ہے اور دَرقة مفرد۔جس کے معنی ہیں چمڑے کی ڈھال۔(عمدۃ القاری جزء۴ اصفحہ ۱۸۶) روایت نمبر ۲۹۰۶ ، ۲۹۰۷ کے لئے دیکھئے کتاب العیدین تشریح باب ۳۔روایت نمبر ۲۹۱۰ نیز روایت نمبر ۲۹۱۳ ایک ہی واقعہ یعنی غزوہ ذات الرقاع سے متعلق ہیں۔اس کے لئے دیکھئے کتاب المغازی باب ۳۱۔باب نمبر ۷۹ تا ۸۳ سے ظاہر ہے کہ فتح کا دارومدار صرف فوج اور اسلحہ پر نہیں بلکہ قابلیت استعمال اسلحہ، جرأت اور الہی نصرت پر ہے۔مَنْ لَّمْ يَرَ كَسْرَ السّلاح عِندَ الْمَوْتِ : باب نمبر ۸۶ سے زمانہ جاہلیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مرنے والا اپنے ساز و سامان کو تلف کروادیتا اور جانور زخمی اور ناکارہ کر دیئے جاتے تا دوسرا اسے استعمال نہ کر سکے۔میدانِ جنگ میں بھی یہی کیا جاتا کہ دشمن اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔حضرت جعفر بن ابی طالب سے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے غزوہ موتہ میں ایسا کیا تھا۔یہ فعل ان کا ذاتی اجتہاد تھا۔فقہاء کے نزدیک احتمال کی بناء پر اسلحہ، ساز وسامان اور ذخائر کا تلف کرنا جائز نہیں۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۱۱۹) (عمدۃ القاری جزء۴ صفحه (۱۹) ان ابواب کے درمیان باب ۸۴ قائم کرنے کی غرض یہ ہے کہ ساز و سامان حفاظت سے لیس ہونے کے باوجود آنحضرت ﷺ کی شان تو کل کو نمایاں کیا جائے کیونکہ اسباب کا اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں بلکہ عین تو کل ہے۔روایت نمبر ۲۹۱۱،۲۹۰۳ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے اور خود ٹوٹنے کا جو ذکر ہے اس کا تعلق غزوہ احد سے ہے۔عقبہ بن ابی وقاص نے آپ کو تیر سے زخمی کیا۔آپ پر پتھراؤ بھی کیا جار ہا تھا جس سے خود ٹوٹ گیا اور پیشانی، رخسار اور دانتوں پر ضرب آئی اور ابن قیمہ کی ضرب سے آپ گر گئے۔(السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد ما لقيه الرسول يوم أحد، جزء ۲ صفحه ۷۹)