صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 269
صحيح البخارى جلده - ۲۶۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ حضرت ابوقتادہ نے ایک گورخر دیکھا اور وہ اپنے أَنْ يُنَاوِلُوْهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ گھوڑے پر بیٹھ گئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ انہیں رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَی ان کا کوڑا دے دیں۔انہوں نے نہ مانا۔پھر انہوں نے الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ ان سے اپنا بھالا مانگا۔اس (کے دینے ) سے بھی انہوں نے انکار کیا۔پھر انہوں نے خود اسے اٹھا لیا أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور اس کے بعد اس گورخر پر زور سے حملہ کیا اور اسے وَأَبَى بَعْضٌ فَلَمَّا أَدْرَكُوْا رَسُوْلَ اللهِ شکار کر لیا۔نبی اے کے بعض صحابہ نے اس کے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوْهُ عَنْ ذَلِكَ گوشت میں سے کچھ کھایا اور بعض نے نہ کھایا۔جب قَالَ إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةً أَطْعَمَكُمُوْهَا اللهُ وه رسول الله ﷺ سے آملے تو انہوں نے آپ سے وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ اس کے متعلق پوچھا۔آپ نے فرمایا: یہ ایک کھانا ہی يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي الْحِمَارِ ہے جو اللہ نے تمہیں کھلایا ہے۔اور زید بن اسلم سے الْوَحْشِي مِثْلُ حَدِيْثِ أَبِي النَّضْرِ بھی گورخر کے متعلق یہی بات مروی ہے۔زید نے عطاء بن یسار سے ، عطاء نے حضرت ابو قتادہ سے۔اس میں قَالَ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَّحْمِهِ شَيْءٌ۔ابونضر کی روایت کی طرح یہ الفاظ ہیں: آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ ہے۔اطرافه ۱۸۲۱ ، ۱۸۲۲، ۱۸۲۳ ، ۱۸۲۴ ، ۲۵۷۰، ۲۸٥٤، ٤١٤۹، ٥٤٠٦ ٥٤٠٧، تشریح: ٥٤ ٥٤٩٢۹۱ ،٥٤۹۰ وَأَعِدُّوا لَهُمُ مَّا اسْتَطَعْتُمُ : اسلحہ اور ان کے استعمال، جنگی مشق اور سپاہیانہ لباس، خود اور زرہ وغیرہ سے متعلق دس ابواب قائم کئے گئے ہیں۔یہ مضمون تیاری جہاد کا ضروری حصہ ہے اور اس کے تعلق میں آیت وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمُ (الأنفال: ۶۱) دوہرائی گئی ہے۔(دیکھئے باب ۴۵، ۷۸) ارشاد باری تعالیٰ کہ ہر قسم کی قوت کے ساتھ تیاری کرو۔یہ تین قسم کی ہے۔پہلی قسم کی تیاری کا تعلق مرد مجاہد کی جسمانی اور اخلاقی صحت مندی سے ہے۔دوسری قسم کا تعلق وسائل نقل و حرکت اور فوج سے ہے اور تیسری قسم کا تعلق لباس اور اسلحہ سے۔مجاہدین کی فوج بیکار محض ہوگی اگر غیر مسلح ہو یا استعمال اسلحہ سے ناواقف یا پوری مہارت سے نابلد جو بغیر مشق پیدا نہیں ہو سکتی۔روایت نمبر ۲۹۰۰ میں فقره إِذَا أَكْثَبُوكُم وارد ہوا ہے۔جس کا مفہوم سمجھنے میں شارحین کو مشکل پیش آئی ہے کہ اگر اس کے یہ معنی کئے جائیں کہ جب دشمن تمہارے نزدیک آجائے تو تیروں سے حملہ کرو۔حالانکہ وہ موقع تو نیزہ اور تلوار چلانے کا