صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 268
صحيح البخاری جلده ۲۶۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير وَعِنْدَهُ رَجُلٌ وَهُو لَا يَشْعُرُ بِهِ فَقَالَ کے پاس ایک آدمی کھڑا ہے۔آپ نے اس کی آہٹ پاس النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا تک محسوس نہ کی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اخْتَرَطَ سَيْفِي فَقَالَ مَنْ يَّمْنَعُكَ قُلْتُ شخص نے میری تلوار سونت لی اور کہا: تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔یہ سن کر اس نے تلوار اللهُ فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ میان میں کر لی۔دیکھو یہ وہ بیٹھا ہے۔مگر آپ نے ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ۔اطرافه ۲۹۱۰، ٤١٣٤، ١٣٥، ٤١٣٦۔اس کو کوئی سزا نہ دی۔باب ۸۸ : مَا قِيْلَ فِي الرِّمَاحِ جو نیزوں کی نسبت بیان کیا گیا ہے (اس کا بیان ) وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ اور حضرت عبد اللہ بن عمر سے بیان کیا جاتا ہے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُعِلَ رِزْقِي کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی تَحْتَ ظِلّ رُمْحِي وَجُعِلَ الذِلَّةُ (آپ نے فرمایا:) میرا رزق میرے نیزے کے سائے تلے مقدر کیا گیا ہے اور جو میرے حکم کی خلاف ورزی کرے گا اس پر ذلت اور پستی ڈالی جائے گی۔وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي۔٢٩١٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ :۲۹۱۴ عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمر بن عبید اللہ کے مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعٍ آزاد کردہ غلام ابونضر سے، ابونضر نے حضرت ابو قتادہ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ انصاری کے آزاد کردہ غلام نافع سے، نافع نے حضرت أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ ( حدیبیہ کے رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضٍ طَرِيْقِ مَكَّةَ مکہ کے ایک راستہ میں جب وہ پہنچے تو وہ اپنے چند تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابِ لَّهُ مُحْرِمِيْنَ وَهُوَ ساتھیوں سمیت جو احرام باندھے ہوئے تھے پیچھے رہ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا گئے اور حضرت ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا۔