صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 265
صحيح البخاری جلده ۲۶۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ٨٤: مَنْ عَلَّقَ سَيْفَهُ بِالشَّجَرِ فِي السَّفَرِ عِنْدَ الْقَائِلَةِ جوسفر میں قیلولہ کے وقت اپنی تلوار درخت سے لٹکائے ۲۹۱۰ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۹۱۰ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَنَانُ ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی کہ ابْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّوَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ انہوں نے کہا: سنان بن ابی سنان دو لی اور ابو سلمہ بن ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت جابر بن عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ عبدالله رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف جنگ کے لئے وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ نکلے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو وہ بھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ آپ کے ساتھ لوٹے۔آپ کو ایک وادی میں جس میں کثرت سے بول کے درخت تھے دو پہر آگئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُتر پڑے اور لوگ ادھر اُدھر بکھر کر درختوں کے سائے میں چلے گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ببول کے نیچے ڈیرہ لگایا اور اپنی تلوار اس سے لٹکا دی اور ہم تھوڑی دیر کے لئے سوگئے۔تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بلا رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک بدوی ہے۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوْنَا وَإِذَا آپ نے فرمایا: اس شخص نے میری تلوار مجھ پر سونت عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ لی، جبکہ میں سو رہا تھا۔میں جاگ اُٹھا اور وہ تلواراس عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ کے ہاتھ میں تنگی تھی۔اس نے کہا: مجھ سے تمہیں کون صَلَّتًا فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي بچائے گا؟ میں نے تین بار کہا: اللہ۔اور آپ نے اس فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرٍ الْعِضَاءِ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُوْنَ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ وَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُوْلُ اللَّهِ فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ ع عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ سَمُرَةٍ ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۴ صفحہ ۱۸۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔