صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 265 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 265

صحيح البخاری جلده ۲۶۵ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير بَاب ٨٤ : مَنْ عَلَّقَ سَيْفَهُ بِالشَّجَرِ فِي السَّفَرِ عِنْدَ الْقَائِلَةِ جو سفر میں قیلولہ کے وقت اپنی تلوار درخت سے لٹکائے ۲۹۱۰ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۹۱۰ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سِنَانُ ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ ابْنُ أَبِي سِنَانِ الدُّوَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ انہوں نے کہا: سنان بن ابی سنان دولی اور ابو سلمہ بن ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عبد الرحمن نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت جابر بن عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ عبد الله رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف جنگ کے لئے وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ لے ۔ جب رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم لوٹے تو وہ بھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ آپؐ کے ساتھ لوٹے ۔ آپ کو ایک وادی میں جس فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيْرِ میں کثرت سے بول کے درخت تھے دو پہر آگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُتر پڑے اور لوگ ادھر اُدھر الْعِضَاءِ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ لکھ کر درختوں کے سائے میں چلے گئے۔ رسول اللہ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ وَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُوْلُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ببول کے نیچے ڈیرہ لگایا اور اپنی تلوار اس سے لٹکا دی اور ہم تھوڑی دیر کے لئے سو گئے ۔ تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بلا رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک بدوی ہے۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوْنَا وَإِذَا آپ نے فرمایا: اس شخص نے میری تلوار مجھ پرسونت عِنْدَهُ أَعْرَابِي فَقَالَ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ لى، جبکہ میں سو رہا تھا۔ میں جاگ اُٹھا اور وہ تو ار اس عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ کے ہاتھ میں تنگی تھی۔ اس نے کہا: مجھ سے تمہیں کون فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي بچائے گا؟ میں نے تین بار کہا: اللہ۔ اور آپ نے اس عمدة القاری میں اس جگہ لفظ سَمُرَةٍ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ ۱۸۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔