صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 266 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 266

صحيح البخاری جلده ۲۶۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير فَقُلْتُ اللهُ ثَلَاثًا وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجَلَسَ۔بدوی کو سزا نہ دی۔اور وہ بیٹھ گیا۔اطرافه: ٢٩١٣، ٤١٣٤، ١٣٥، ٤١٣٦۔بَاب ٨٥ : لُبْسُ الْبَيْضَةِ خود پہننا ۲۹۱۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۹۱۱ عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عبد العزيز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے أَبِيْهِ عَنْ سَهْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ باپ سے، ان کے باپ نے سہل بن سعد ساعدی ) عَنْ جُرْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ جُرحَ وَجْهُ النَّبِيِّ کے غزوہ اُحد میں زخمی ہونے کی نسبت پوچھا گیا تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُسِرَتْ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ اور آپ کا درمیانی دانت ٹوٹ گیا تھا اور آپ کے سر کا خود بھی ٹوٹ گیا تھا اور حضرت فاطمہ علیہا السلام آپ کے زخم کا خون دھوتی تھیں اور حضرت علی آپ کو تھامے ہوئے تھے۔جب حضرت فاطمہ نے دیکھا کہ خون بڑھ رہا ہے تو انہوں نے ایک بوریا لیا اور اسے حَصِيْرًا فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا جلایا یہاں تک کہ بوریا راکھ ہو گیا۔پھر انہوں نے وہ ثُمَّ أَلْزَقَتْهُ فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ۔زخم پر چپکا دیا تو خون و ہیں تھم گیا۔فَكَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَامُ تَغْسِلُ الدَّمَ وَعَلِيٌّ يُمْسِكُ فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الدَّمَ لَا يَرْتَدُّ إِلَّا كَفْرَةً أَخَذَتْ اطرافه ٢٤٣، ۲۹۰۳، ۳۰۳۷، ٤٠۷۵ ٥٢٤٨ ٥٧٢٢ بَاب ٨٦: مَنْ لَّمْ يَرَ كَسْرَ السّلَاحِ عِنْدَ الْمَوْتِ جس نے مرنے کے وقت ہتھیاروں کو توڑنا مناسب نہ سمجھا ۲۹۱ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسِ :۲۹۱۲ عمرو بن عباس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عبد الرحمن بن مہدی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ سفیان ثورى)۔سے، سفیان نے ابواسحق سے،