صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 264
صحیح البخاری جلده ۲۶۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ زیادہ خوبصورت تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَخَرَجُوْا نَحْوَ الصَّوْتِ بہادر تھے۔ مدینہ والے ایک رات ایکا ایک گھبرا گئے اور فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آواز کی طرف چل پڑے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَهُوَ عَلَى سامنے سے آتے ہوئے ملے۔ آپ بات کی تحقیق کر ابو طلحہ کے ایک گھوڑے پر سوار فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيِ وَفِي عُنُقِهِ چکے تھے۔ آپ حضرت ابو علی تھے۔ جس کی پیٹھ منگی تھی (یعنی اس پر کچھ نہ تھا۔) تلوار السَّيْفُ وَهُوَ يَقُوْلُ لَمْ تُرَاعُوْا لَمْ تُرَاعُوْا ثُمَّ قَالَ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ قَالَ إِنَّهُ لَبَحْرٌ۔ آپ کے گلے میں حمائل تھی اور آپ کہہ رہے تھے : ڈرو نہیں، ڈرو نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: ہم نے اس گھوڑے کو دریا پایا یا فرمایا: وہ تو ایک دریا ہے۔ اطرافه ،۲۶۲۷، ۲۸۲۰ ٢٨٥٧، ٢٨٦٢، ٢٨٦٦، ٢٨٦٧ ، ٢٩٦٨، ٢٩٦٩، ٣٠٤٠، ٦٠٣٣، ٦٢١٢ باب ۸۳ : مَا جَاءَ فِي حِلْيَةِ السُّيُوْفِ تلوار کو مزین کرنا ۲۹۰۹ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۹۰۹ : احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ (بن مبارک ) نے ہمیں خبر دی۔ اوزاعی نے ہمیں قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيْبٍ قَالَ بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے سلیمان بن حبیب سے سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُوْلُ لَقَدْ فَتَحَ سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے ابوامامہ سے سنا۔ وہ کہتے الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَتْ حِلْيَةُ سُيُؤْفِهِمُ تھے: یہ فتوحات ان لوگوں نے حاصل کیں جن کی الذَّهَبَ وَلَا الْفِضَّةَ إِنَّمَا كَانَتْ تلواریں مزین نہ تھیں۔ نہ سونے سے، نہ چاندی سے حِلْيَتُهُمُ الْعَلَابِيَّ وَالْآنُكَ وَالْحَدِيدَ ۔ بلکہ ان کی زینت چھڑا، سیسہ اور وہا تھا۔