صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 263
صحيح البخاری جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ غَمَنْ تُهُمَا فَخَرَجَتَا۔جب حضرت ابو بکر کام میں مشغول ہوئے۔میں نے ان دونوں لڑکیوں کو اشارہ کیا، وہ باہر چلی گئیں۔اطرافه ٤٥٤، ٤٥٥، ۹۵۰، ،۹۸۸، ۳۵۲۹، ٥۱۹۰، ٥٢٣٦۔:۲۹۰۷ قَالَتْ وَكَانَ يَوْمُ عِيْدٍ : ۲۹۰ حضرت عائشہ کہتی تھیں : وہ عید کا دن تھا۔يَلْعَبُ السُّوْدَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ حبشی ڈھال اور برچھوں سے کھیل رہے تھے۔یا تو فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا آپ وَسَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ تَشْتَهِيْنَ تَنْظُرِيْنَ نے فرمایا: تم چاہتی ہو کہ تم دیکھو؟ میں نے کہا: ہاں۔فَقُلْتُ نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِي آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا۔میرا رخسار آپ کے عَلَى حَدِهِ وَيَقُوْلُ دُوْنَكُمْ بَنِي أَرْفِدَةَ بخار کے قریب تھا۔آپ فرما رہے تھے : بنی ارفدہ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ حَسْبُكِ قُلْتُ چلو شروع کرو۔جب میں اکتا گئی تو آپ نے فرمایا: نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبي۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ بس؟ میں نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: اچھا جاؤ۔ابوعبد الله (امام بخاری) نے کہا: احمد بن ابی صالح) قَالَ أَحْمَدُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ فَلَمَّا غَفَلَ۔نے ابن وہب سے فَلَمَّا عَمِلَ کی بجائے یوں نقل کیا ہے : فَلَمَّا غَفَلَ یعنی جب حضرت ابو بکر اپنے دھیان میں لگ گئے۔اطرافه ،٩٤٩ ، ،۹۵۲ ، ،۹۸۷، ۳۵۳۰، ۳۹۳۱ بَاب ۸۲ : اَلْحَمَائِلُ وَتَعْلِيْقُ السَّيْفِ بِالْعُنُقِ تلوار کی حمائل اور تلوار کو گلے میں لٹکانا ۲۹۰۸ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۲۹۰۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ثابت سے، اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ أَنَسٍ رَضِيَ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق اس جگہ الفاظ فَلَمَّا عَمِل ہیں۔(فتح الباری جزء ۲ حاشیہ صفحہ ۱۱۶)