صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 262
صحيح البخاری جلده ۲۶۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ قَالَ حَدَّثَنِي حضرت علیؓ سے روایت کی۔( دوسری سند ) قبیصہ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا (بن عقبہ) نے بھی ہم سے بیان کیا کہ سفیان ثوری ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعد بن ابراہیم سے روایت اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ کی کہ انہوں نے کہا: عبد اللہ بن شداد نے مجھ سے بیان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي رَجُلًا کیا، کہا: میں نے حضرت علی دینہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: بَعْدَ سَعْدٍ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ ارْمِ فِدَاكَ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے رَضِيَ أَبِي وَأُمِّي۔حضرت سعد کے بعد کسی شخص کی نسبت یہ کہا ہو کہ میرے ماں باپ یا میری جان اس پر قربان ہو۔آپ انہی سے کہتے تھے : تیر چلاؤ۔میرے ماں باپ تم پر قربان۔اطرافه ٤٠٥٨ ٤٠٥٩، ٦١٨٤۔عَائِشَةَ رَضِيَ بَاب ۸۱: الدَّرَقُ چمڑے کی ڈھال ٢٩٠٦: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ :۲۹۰۶ اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ عَمْرُو کیا، کہا : ( عبداللہ ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عمرو بن حارث ) نے کہا: ابوالاسود نے مجھے بتایا۔اللهُ عَنْهَا دَخَلَ عَلَيَّ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ آئے جبکہ میرے پاس دولڑکیاں بعاث کا گیت گا رہی فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ تھیں۔آپ بچھونے پر لیٹ گئے اور اپنے منہ کو ایک فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ طرف کر لیا۔اتنے میں حضرت ابو بکر آئے۔انہوں نے مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ مجھے جھڑ کا اور کہنے لگے : شیطان کی بنسریاں رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم کے ہاں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: انہیں رہنے دو۔