صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 8
صحيح البخاری جلده A ۵۳- كتاب الصلح يَقُولُ خَيْرًا سے یہی مراد ہے نہ یہ کہ عمدا جھوٹ بات کہنا۔ ایک مقولہ مشہور ہے: دروغ مصلحت آمیز به از راستی فتنہ انگیز ۔ یہ بالکل لغو اور باطل ہے۔ دروغ کسی حالت میں جائز نہیں بعض روایات میں آیا ہے کہ تین جگہ جھوٹ بولنا جائز ہے۔ جنگ میں ، مصالحت کی غرض سے اور بیوی کو خوش کرنے بیوی کو خوش کرنے کیلئے کیا اسی قسم کی کمزور ، اسی قسم کی کمزور روایات کا یہاں رڈ کرنا مقصود ہے۔ امام ابن حجر نے ایسی روایات کا سقم واضح کیا ہے کہ وہ از قبیل مدرج ہیں۔ یعنی راویوں نے اپنی طرف سے آمیزش کی ہے۔ جن روایات میں لفظ کذب وارد ہوا ہے وہاں تو ریہ اور تعریض مراد ہے یعنی ذو معنی الفاظ کا استعمال جس سے ذہن اصل بات کی طرف منتقل نہ ہو۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۶۹) جیسے سفر ہجرت کے دوران ایک شخص کے دریافت کرنے پر حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ ۔ یعنی شخص مجھے راستہ بتاتا ہے۔ سمجھنے والا سمجھا کہ ان کی مراد صرف یہی راستہ حالانکہ ان کی مراد بھلائی کا راستہ تھی۔ آنحضرت ﷺ کا نام پوشیدہ رکھنے کی غرض سے ایسا لفظ استعمال کیا کہ ذہن آپ ہے کی طرف نہیں گیا۔ (دیکھئے روایت نمبر ۳۹۱۱) بعض فقہاء نے اِ فقہاء نے اس واقعہ سے استدلال استدلال کیا ہے کہ کسی کو قتل یا ظلم سے بچانے کے لئے اختفاء، توریہ یا تعریض سے کام لیا جانا جائز ہے؛ مگر جہاں اس طریق سے کسی کی حق تلفی ہو، نا جائز فائدہ حاصل کرنا مقصود ہو تو وہاں تو ریہ و تعریض وغیرہ جائز نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۶۹) اس تعلق میں مزید کتاب الجهاد باب ۱۵۷ تا ۱۶۰ مع تشریح دیکھئے۔ صلى بَاب : قَوْلُ الْإِمَامِ لِأَصْحَابِهِ : اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ امام کا اپنے ساتھیوں سے کہنا ہمیں لے چلو ہم صلح کرائیں گے ٢٦٩٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۶۹۳: محمد بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ عبد العزيز بن عبداللہ اویسی اور اسحاق بن محمد فروی الْأُوَيْسِيُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ نے ہمیں بتایا۔ اُن دونوں نے کہا: محمد بن جعفر نے الْفَرْوِيُّ قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوحازم سے، ابوحازم نے عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ه أَنَّ أَهْلَ قُبَاءَ اقْتَتَلُوا حَتَّى اہل قباء آپس میں جھگڑ پڑے، یہاں تک کہ انہوں تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ فَأُخْبِرَ رَسُوْلُ اللهِ نے ایک دوسرے پر پتھر چلائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَ: علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا: اذْهَبُوا بِنَا نُصْلِحُ بَيْنَهُمْ۔ ہمیں لے چلو ہم اُن کی صلح کرائیں گے۔ اطرافه: ٦٨٤ ، ۱۲۰۱ ، ۱۲۰۴، ۱۲۱۸، ۱۲۳۴، ۲۶۹۰، ۷۱۹۰۔ (ترمذی، کتاب البر والصلة، باب ما جاء في إصلاح ذات البين)