صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 259 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 259

صحيح البخاری جلده ۲۵۹ ۵۲ - كتاب الجهاد والسير تیاری کے ساتھ شریک ہوں۔اس سے نہ مرد مستی ہیں نہ عورتیں حتی کہ نو عمر بھی جیسا کہ حضرت انس غزوہ خیبر میں شریک ہوئے۔اس وقت وہ سن بلوغت کو بھی نہیں پہنچے تھے گو ان کی خدمت علیحدہ نوعیت رکھتی تھی۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پانی لاتے ، وضو کراتے اور آپ کے سامان کا خیال رکھتے۔آیت مذکورہ باب ۷۳ میں صبر، مصابرہ اور مرابطہ کے بعد جہاد میں کامیابی کے لئے تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے۔یہ صفت تقویٰ اخلاق فاضلہ پر حاوی ہے۔بغیر اخلاق فاضلہ جہاد بے روح اور جنگ میں ظاہری کامیابی بے حقیقت ہے۔یہ کامیابی ایسی فلاح نہیں جو مقصد برا اور پائیدار ہو۔اس آیت میں ترتیب تدریجی ہے۔بیان میں ادنیٰ سے اعلیٰ درجہ ملحوظ ہے۔صبر، مصابرہ، مرابطہ اور تقویٰ اللہ سے جو فلاح حاصل ہوتی ہے وہ اسلامی جہاد کا نصب العین متعین کرتی۔باب ۷۶ میں عورتوں اور کمزوروں کی شمولیت جہاد کا مضمون ختم کیا گیا ہے۔ہے۔جہاد مقدس میں شامل ہونے والوں کی برکت کا جو ذکر روایت نمبر ۲۸۹۷ میں ہے اس سے ظاہر ہے کہ اس کی نیک اور مبارک تاثیر کا زمانہ تین صدیوں تک ممتد ہے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ - (روایت نمبر ۲۶۵۲) بہترین صدی میری ہے پھر تابعین کی پھر تبع تابعین کی کہ ان تین صدیوں میں فلاح و کامیابی مسلمانوں کے ہمرکاب رہے گی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔صرف ہیں سال کی مدت میں وہ برکت انہیں حاصل ہوئی جو تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔باب ۷۶ میں حضرت ابوسفیان کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔اس کے لئے دیکھئے کتاب بدء الوحي ، روایت نمبرے۔باب ۷۸ کی مزید وضاحت کے لیے تشریح زیر باب ۸۸ بھی ملاحظہ ہو۔ہر باب بطور فصل ہے۔یعنی اس پر سابقہ مضمون ختم کر کے نئے مضمون سے متعلق ابواب شروع کئے گئے ہیں۔باب ۷۹: اَللَّهُرُ بِالْحِرَابِ وَنَحْوِهَا برچھی وغیرہ سے کھیلنا ٢٩٠١ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۲۹۰۱: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے معمر نے زہری سے، الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ زُہری نے (سعید) بن مسیب سے سعید نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا الْحَبَشَةُ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عَن رَضِيَ ابْنِ يَلْعَبُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ایک بار حبشی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے برچھوں وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى سے کھیل رہے تھے کہ اتنے میں حضرت عمر آئے۔انہیں