صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 258
صحيح البخاری جلده ۲۵۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ۔۔۔عبدالدینار سے مراد دولت مند ، آسائش پسند، حریص اور بخیل مشخص ہے جو ادنی سی نیکی سے بھی محروم ہو۔طُوبَى لِعَبد سے وہ مجاہد مراد ہے جو فریضہ جہاد ادا کرنے میں منہمک ہے۔نہ اسے تن بدن کا ہوش ہو اور نہ جاہ و منصب کا خیال۔فوج میں جو بھی فرض منصبی اسے سپرد ہو وہ ادا کرنے کے لئے ہر وقت مستعد اور حاضر باش رہتا ہے۔قطع نظر اس کے کہ کوئی اس کا قدر شناس ہو یا نہ ہو۔: اور باب ۷۳ میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) (آل عمران: ۲۰۱) یعنی مومنو صبر سے کام لو۔(دشمن سے بڑھ کر ) صبر دکھاؤ۔(ایک دوسرے کو ثابت قدم رکھنے کی کوشش کرتے رہو) اور مضبوطی سے سرحدوں کی نگرانی کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا تم کامیاب ہو جاؤ۔اس آیت میں پانچ باتوں کی ہدایت ہے۔اول ثبات و استقلال سے کام لینا۔دوم ایسی ثابت قدمی دکھانا جودشمن کی ثابت قدمی سے بڑھ کر ہو۔سوم اپنے ساتھیوں کو بھی صبر کی تلقین کرنا۔چہارم رابطہ یعنی ایسی جگہوں کی حفاظت جہاں رخنہ ہو اور دشمن کے اندر آنے کا خطرہ ہو۔پنجم تقویٰ یعنی انتہائی احتیاط سے کام لینا۔جنگ احزاب میں مدینہ کے اردگرد خندق اسی ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق کھودی گئی اور جگہ جگہ مضبوط تیر اندازوں کی چوکیاں بٹھائی گئیں تا کہ دشمن کو کسی جگہ سے داخل ہو کر حملہ کرنے کا موقعہ نہ ملے۔باب ۶۲ سے جو مضمون شروع کیا تھا اسے ایک جامع آیت پر ختم کیا ہے کہ کامیاب جہاد وہی ہے جس میں مرد وزن ، مضبوط و کمزور ، چھوٹے اور بڑے سب اپنی اپنی اہلیت اور طاقت کے مطابق شریک ہوں اور اس میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہو کر سارے جنگی محاذ کو مضبوط رکھیں تاکہ صف قتال میں کوئی رخنہ اور استعداد حربی میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔صفت صبر و مصابرت لازمہ شجاعت و ثبات ہے جس کا ذکر آیت وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ (البقرة: ۱۸ اور آیت وَلَا تَكُونُ كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَرِثَاءَ النَّاسِ (الأنفال: ۴۸) میں کیا گیا ہے۔ان آیات کی تشریح کیلئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی زیر عنوان حقیقی شجاعت نیز زیر عنوان "صبر" - روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۸ تا ۳۶۲ صَابِرُوا باب مفاعلہ سے ہے اور مُصابرة کے معنی ہوتے ہیں زیادہ سے زیادہ ثابت قدم رہنا اور دوسروں کو بھی ثابت قدم رکھنا۔یہ دونوں حکم صابِرُوا میں پائے جاتے ہیں۔رابطوا بھی باب مفاعلہ ہے جو ربط سے ہے۔مُرابطة کے معنی ہوتے ہیں باندھنا، مضبوط رکھنا۔رابط الجَأْشِ کے معانی ہیں مضبوط دل کا مالک اور متحمل مزاج۔(اقرب الموارد- ربط) اصحاب الکہف کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَرَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمُ (الكهف : ۱۶) ہم نے ان کے دلوں کو ہر طرح سے مضبوط کر دیا تھا۔وہ ظلم و ستم سے ہراساں اور نا اُمید نہیں ہوئے۔ان کا ایمان باللہ نہایت قوی تھا۔اس مضبوطی کے مفہوم میں مرابطہ حدود کی جنگی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوّ اللهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمُ۔۔۔(الأنفال: (4) اس آیت کا حوالہ باب ۴۵ میں دے کر جہاد سے متعلق مطلوبہ استعداد کا مضمون شروع کیا گیا ہے اور اسی مضمون کے تعلق میں ان ابواب کی روایات لائی گئی ہیں اور افراد معاشرہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ جہاں تک جہاد کے لئے تیاری تصور میں آ سکتی ہے اس