صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 260
صحيح البخاری جلده ۲۶۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير إِلَى الْحَصَى فَحَصَبَهُمْ بِهَا فَقَالَ دیکھ کر وہ کنکریوں کی طرف جھکے اور ان کو کنکریاں پھینکیں۔دَعْهُمْ يَا عُمَرُ۔زَادَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا آپ نے فرمایا: عمرا انہیں رہنے دو۔اور علی (ابن مدینی) عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ فِي الْمَسْجِدِ نے اتنا اور بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا کہ مسجد میں کھیل رہے تھے۔) بَاب ۸۰ : اَلْمِجَنُّ وَمَنْ يَتَّرِسُ بِتُرْسِ صَاحِبِهِ ڈھال ( کا استعمال) اور جو شخص اپنے ساتھی کی ڈھال سے آڑلے ۲۹۰۲: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۹۰۲: احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ (بن (مبارک) نے ہمیں خبر دی۔اوزاعی نے ہمیں إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ بتایا۔انہوں نے اطلق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، الحق عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ الله عَنْهُ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ کی کہ انہوں نے کہا: حضرت ابوطلحہ ایک ہی ڈھال صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے ساتھ اپنا بھی وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنَ الرَّمْيِ فَكَانَ بچاؤ کرتے تھے اور حضرت ابوطلحہ اچھے تیرانداز تھے۔إِذَا رَمَى يُشْرِفُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جب وہ تیر چلاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جھانکتے اور وَسَلَّمَ فَيَنْظُرُ إِلَى مَوْضِعِ نَبْلِهِ۔ان کے تیر پڑنے کی جگہ دیکھتے۔اطرافه ۲۸۸۰، ٣٨۱۱، ٤٠٦٤۔۲۹۰۳ : حَدَّثَنَا سَعِيْدُ بْنُ عُفَيْرٍ :۲۹۰۳ سعید بن غفیر نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بن عبد الرحمن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو حازم سے، أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ قَالَ لَمَّا كُسِرَتْ ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد ساعدی ) سے روایت بَيْضَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی کہ انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خود جو عَلَى رَأْسِهِ وَأُدْمِيَ وَجْهُهُ وَكُسِرَتْ آپ اپنے تھے ٹوٹ گیا۔آپ کا چہرہ زخم سے خون آلودہ رَبَاعِيَتُهُ وَكَانَ عَلِيٌّ يَخْتَلِفُ بِالْمَاءِ تھا اور آپ کا سامنے کا درمیانی دانت بھی ٹوٹ گیا