صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 257
صحيح البخاری جلده ۲۵۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير فَخَرَجْتُ مَعَ النَّبِيَ الله بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ : روایت نمبر ۲۸۷۹ میں حضرت عائشہ نے تصریح کی ہے کہ وہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد جنگ میں شریک ہوئیں۔اس سے ان فقہاء کا رڈ ہوتا ہے جو عورتوں کی شرکت جہاد سے متعلق یہ احتمال پیش کرتے ہیں کہ ان کی شمولیت حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہوگی۔اس تعلق میں کتاب الحیض ، باب ۲۳ روایت نمبر ۳۲۴ بھی دیکھئے جہاں حضرت ام عطیہ کے چھ غزوات میں شامل ہونے کا ذکر ہے۔باب ۶۳ ، ۶۵ میں عورتوں کی شرکت ان کی امداد کی نوعیت کے پیش نظر جہاد وقتال ہی قرار دی گئی ہے۔اس تعلق میں کتاب المغازی روایت نمبر ا ۴۰۷۵،۴۰۷ بھی دیکھئے۔تَزْفِرُ تَخِيطُ : باب ۲۶ کی روایت کے آخر میں ترفِر کے معنی سینا کئے گئے ہیں۔یہ تشریح صرف مستملی کے نسخہ بخاری میں ہے اور غیر معروف ہے۔اصل میں الزفَرُ کے معنی ہیں الحمل یعنی اُٹھانا اور ذکر بھری ہوئی مشک کو بھی کہتے ہیں۔زَوَافِر وہ لونڈیاں جو بھری ہوئی مشکیں اُٹھائیں۔مستخرج ابونعیم میں ہے : وَقَالَ أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ تَزْفِرُ تَخْرِزُ - امام ابن حجر کے نزدیک ابو صالح کا حوالہ یہاں دیا گیا ہے کہ تَزْفِرُ کے ایک معنی سینا بھی ہیں۔الفاظ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ تَزْفِرُ تَخِيْطُ کتاب المغازی میں جو روایت زیر باب ذِكْرُ اُمِ سلیط آتی ہے اس میں نہیں ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۹۸) جِئْتُ لِأَحَرُسَكَ: روایت نمبر ۲۸۸۵ سے متعلق یہ اعتراض ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو حضرت عائشہ مکہ مکرمہ میں تھیں اور حضرت سعد بن ابی وقاص بھی ابتدائے ہجرت میں مسلمان نہ تھے۔امام بخاری نے عنوانِ باب سے اس اعتراض کا جواب یہ دیا ہے کہ واقعہ مذکورہ بالا ابتدائی زمانہ ہجرت کا نہیں بلکہ اس وقت کا ہے جب غزوات شروع ہو چکے تھے۔امام مسلم نے اور نسائی نے بھی حضرت عائشہ کی یہی روایت نقل کی ہے اور امام احمد بن قبل سنہ کی روایت میں صراحت ہے وَهِيَ إِلَى جَنبِهِ کہ حضرت عائشہ اس وقت آپ کے قریب تھیں۔جس سے ظاہر ہے کہ یہ واقعہ ۲ھ کے بعد کا ہے اور اس وقت جنگی چھٹر ہیں مدینہ کے نواح میں شروع ہو چکی تھیں۔(فتح الباری جزء 1 صفحه ۱۰۰) (عمدۃ القاری جزیم اصفحہ ۱۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن کی تیاری اور اس کے حملہ کرنے کی دھمکیاں ہجرت کے معابعد ملنا شروع ہوگئی تھیں اور پہلے ڈیڑھ دو سال انتہائی تشویش کے تھے۔(دیکھئے کتاب المغازی تشریح باب ۲) ہو سکتا ہے کہ واقعہ مذکورہ بالا ابتدائی زمانہ ہجرت کا ہو جبکہ قریش اور بدوی قبائل کی طرف سے شبخون کا خطرہ تھا۔روایت نمبر ۷ ۲۸۸ سے بتایا ہے کہ فوج کے لئے حصے ہوتے ہیں۔مقدمۃ الجیش ، المیمنہ ،المیسرہ، القلب، موخرة الجیش یعنی الساقہ جو بار برداری سے مخصوص ہے۔ہر حصہ میں کام کرنے والے اپنی قابلیت کے مطابق شامل ہوکر جہاد کے مقدس فریضہ میں شریک ہو سکتے ہیں۔(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة، باب في فضل سعد بن أبي وقاص) (السنن الكبرى للنسائي، كتاب المناقب، باب سعد بن مالک) (مسند أحمد بن حنبل، حديث السيدة عائشة، جزء ۶ صفحه ۱۴۰)