صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 256 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 256

صحيح البخاری جلده ۲۵۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ہے کہ عورت آیت انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا ( التوبة : ۴۱) میں مخاطب نہیں بلکہ مرد مخاطب ہیں اور وجہ یہ بیان کی کہ وہ لڑائی نہیں کر سکتیں۔لیکن ابن بطال نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ عورت کے لئے حج افضل جہاد قرار دیا گیا ہے۔اس سے جہاد کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۹۳) یہ اختلاف ہے جس سے باب ۶۲ سے باب ۷۸ تک سترہ ابواب قائم کر کے مذکورہ بالا خیال رڈ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس حالت میں عورت شریک جہاد ہوسکتی ہے اور صحابیات نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کیا حصہ لیا۔ان میں سے باب نمبر ۶۵ تا ہے میں ایسے کام گنوائے ہیں جو میدانِ جنگ میں آسانی سے کئے جاسکتے ہیں۔مثلاً پہرہ ، بار برداری اور زخمی کے بدن سے تیر نکالنا اور اسے پانی پلانا وغیرہ خدمت کے کام جو بوڑھے اور کمزور لوگ بھی کر سکتے ہیں۔ان ابواب میں بڑی عمر والے لوگوں کی بھی اسی قسم کی خدمات کا ذکر ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ بچوں تک کو جہاد میں شریک ہونے کا موقع دیا گیا تھا اور سارے افراد اُمت نے مل کر فریضہ جہاد کی عظیم الشان مہم سر کی۔جس کے مبارک ثمرات ابد تک حاصل ہوتے رہے۔یہ خلاصہ جواب ہے مسئلہ معنونہ کا جوان سترہ ابواب میں بیان ہوا ہے۔پندرہ سال سے کم عمر والے بچوں کو جنگ میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی۔جنگ احد میں حضرت اسامہ بن زید، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت زید بن ثابت نجاری ، حضرت براء بن عازب حارثی، حضرت عمرو بن حزم نجاری اور حضرت اُسید بن ظہیر ھارٹی کو اجازت نہیں دی۔یہ لڑ کے شوق سے جنگ میں شریک ہونے کے لئے آئے تھے اور شوق کا یہ حال تھا کہ حضرت رافع بن خدیج حارثی سے متعلق آپ کو بتایا گیا کہ یہ اچھا تیرانداز ہے اور آپ نے اجازت دے دی تو ان کے ہم جولی حضرت سمرہ بن جندب بولے کہ میں رافع کو کشتی میں گرا لیتا ہوں۔چنانچہ کشتی ہوئی اور سمرۃ نے رافع کو پچھاڑ لیا۔آپ نے انہیں بھی اجازت دے دی۔دونوں پندرہ پندرہ سال کے تھے۔(السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد، من أجازهم الرسول وهم في الخامسة عشرة) صلى الله عبدالرزاق کی روایت جو زہری سے منقول ہے کے یہ الفاظ ہیں : كَانَ النِّسَاءُ يَشْهَدْنَ مَعَ النَّبِي الْمُشَاهِدَ وَيَسْقِيْنَ الْمُقَاتَلَةَ وَيُدَاوِيْنَ الْجَرحَی یا یعنی عورتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہمات میں شامل ہوتی تھیں۔وہ لڑنے والوں کو پانی پلایا کرتیں اور زخمیوں کا علاج معالجہ کیا کرتی تھیں۔اور ابوداؤد کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نُدَاوِي الْجَرْحَى وَنُنَاوِلُ السَهَامَ وَنَسْقِي السَّوِيقَ یعنی زخمیوں کا علاج معالجہ کرتیں، لڑنے والوں کو تیر پکڑا دیتیں اور ستو پلاتیں۔اور مسلم کی روایت میں ہے کہ غزوہ حنین میں حضرت ام سلیم نے سنجر لیا کہ اگر کوئی مشرک ان کے قریب آیا تو اس کا پیٹ پھاڑ دیں گی۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۹۶) (مصنف عبد الرزاق، كتاب الجهاد، باب جهاد النساء) (سنن أبی داود، كتاب الجهاد ، باب في المرأة والعبد يحذيان من الغنيمة) (صحیح مسلم، کتاب الجهاد والسير ، باب غزوة النساء مع الرجال)