صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 255
صحيح البخاری جلده - ۲۵۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوْا وَأَنَا مَعَ کرتے رہا کرو۔کیونکہ تمہارا باپ بھی تیرانداز تھا۔بَنِي فُلَانٍ قَالَ فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ تیراندازی کرو اور میں بھی فلاں قبیلہ کے ساتھ شریک بِأَيْدِيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله ہو جاتا ہوں۔حضرت سلمہ کہتے تھے کہ ہم میں سے ) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكُمْ لَا تَرْمُوْنَ قَالُوْا ایک گروہ نے اپنے ہاتھ روک لئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے؟ تیر کیوں كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ نہیں چلاتے ؟ انہوں نے کہا: تیر کیسے چلائیں جبکہ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْمُوْا فَأَنَا مَعَكُمْ كُلِكُمْ۔اطراف: ۳۳۷۳، ٣٥٠٧ ان کے ساتھ ہیں۔نبی ﷺ نے فرمایا: تیر اندازی کرو۔میں تم سب کے ساتھ ہوں۔٢٩٠٠: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۲۹۰۰ ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں عبدالرحمن عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيْلِ عَنْ حَمْزَةَ بن غسیل نے بتایا۔انہوں نے حمزہ بن ابی اسید سے، ابْنِ أَبِي أُسَيْدِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَالَ حمزہ نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ فِی صلی اللہ علیہ سلم نے بدر کے دن جب ہم قریش کے نبی مقابلہ کیلئے صف بستہ کھڑے ہوئے اور وہ ہمارے مقابلہ کے لئے صفیں باندھ کر کھڑے ہوئے فرمایا: جب وہ تمہاری طرف حملے کے لئے بڑھیں تو پھر تم حِيْنَ صَفَفَنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُوْا لَنَا إِذَا أَكْثَبُوْكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ۔اطرافه: ٣٩٨٤، ٣٩٨٥۔تشریح: تیروں سے حملہ کرو۔وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ : جہاد سے متعلق کئی کام ہیں۔مثلاً مقابلہ اعداء۔ہر شخص اسلحہ استعمال کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، اس کے لئے مضبوط ، دلیر اور مردان کار آزمودہ کی ضرورت ہے۔پھر سامان رسد کی بہم رسانی اور بار برداری کا انتظام ہے۔اس طرح شہداء کی تدفین ، زخمیوں اور مریضوں کی عیادت و تیمارداری کے کام ہیں اور ہر کام کی اہلیت رکھنے والا ہی اسے سرانجام دے سکتا ہے۔نسائی نے حضرت ابو ہریرہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں بوڑھوں اور عورتوں کے جہاد کا ذکر ہے۔الفاظ یہ ہیں: جِهَادُ الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ وَالضَّعِيْفِ وَالْمَرْأَةِ الْحَجُ وَالْعُمْرَةُ۔(سنن النسائي، كتاب مناسك الحج، باب فضل الحج) یعنی اُدھیڑ عمر کم عمر کمزور اور عورت کا جہاد (اس کا ) حج اور عمرہ ہے۔ایسی روایتوں کی بناء پر بعض فقہاء نے یہ رائے قائم کی