صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 254
صحيح البخاری جلده ۲۵۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير الْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ اس نے جلدی مرنا چاہا اور اپنی تلوار کے قبضے کو زمین پر عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ رکھا اور اس کی نوک اپنے پستانوں کے درمیان رکھی اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ إِنَّ اس پر اپنا بوجھ ڈالا اور اپنے آپ کو مار ڈالا۔رسول اللہ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيْمَا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ایک شخص ظاہر میں لوگوں کو جنتیوں کے کام کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے بحالیکہ يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ وہ دوزخیوں میں سے ہوتا ہے اور کوئی شخص ظاہر میں الرَّجُلَ لَيَعْمَلْ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيْمَا لوگوں کو دوزخیوں کے سے کام کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔بحالیکہ وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔اطرافه: ٤۲۰۲ ٤٢٠٧ ، ٦٦٠٧،٦٤٩٣ باب ۷۸: التَّحْرِيْضُ عَلَى الرَّمْي تیراندازی کی ترغیب دینا وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَاَعِدُّوا لَهُمُ اور الله عز وجل کا فرمانا: تم ان کے مقابلہ کے لئے جو مَّا اسْتَطَعْتُم مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ قوت بھی مہیا کر سکتے ہو کرو اور جس قدر بھی گھوڑے رِبَاطِ الخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُقَ اللهِ باندھ سکتے ہو باندھو اور پوری تیاری کرو۔اس (تیاری ) وَعَدُوَّكُمْ (الأنفال: ٦١) سے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو مرعوب کرو۔۲۸۹۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۸۹۹: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ عَنْ يَزِيدَ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید بن ابی عبید ابْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سلمہ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے کہا کہ نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفَرٍ مِنْ صلى اللہ علیہ وسلم اسلم قبیلہ کے چند لوگوں کے پاس أَسْلَمَ يَنْتَضِلُوْنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله سے گذرے جو تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْمُوْا بَنِي إِسْمَاعِيْلَ فَإِنَّ نبي صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اسمعیل کے بیٹو! تیر اندازی