صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 251
صحيح البخاری جلده ۲۵۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ٧٦: مَنِ اسْتَعَانَ بِالضُّعَفَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ فِي الْحَرْبِ جس نے جنگ میں کمزوروں اور نیک لوگوں سے مدد لی وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ اور حضرت ابن عباس نے کہا: ابوسفیان نے مجھے بتایا قَالَ لِي قَيْصَرُ سَأَلْتُكَ أَشْرَافُ النَّاس که قیصر ( یعنی روم کے بادشاہ ) نے مجھ سے کہا: میں اتَّبَعُوْهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ فَزَعَمْتَ ضُعَفَاءَهُمْ نے تم سے پوچھا ہے۔بڑے لوگ اس کے پیرو ہیں یا کمزور؟ تو تم نے بیان کیا: ان میں سے کمزور۔اور وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ۔رَضِيَ یہی لوگ ( ابتداء ) رسولوں کے پیرو ہوتے ہیں۔٢٨٩٦ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۲۸۹۶ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ طَلْحَةَ محمد بن طلحہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے طلحہ سے طلحہ نے عَنْ مُّصْعَبِ بْنِ سَعْدِ قَالَ رَأَى سَعْدٌ مصعب بن سعد سے ند سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ حضرت سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کو خیال ہوا کہ دُونَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ان کو دوسرے صحابہ پر فضیلت ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ هَلْ تُنْصَرُوْنَ {وَتُرْزَقُوْنَ *} نے فرمایا: تم میں سے جو کمزور ہیں انہی کے ذریعہ تو إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ۔تمہیں نصرت ملتی ہے { اور رزق حاصل ہوتا ہے یہ ۲۸۹۷ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۲۸۹۷ عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو جَابِرًا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله سے سنا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے مروی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي زَمَانٌ يَغْرُو فِتَامٌ ہے۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ فِيْكُمْ مَّنْ صَحِبَ کہ آپ نے فرمایا کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَالُ کی جماعت جنگ کے لئے نکلے گی۔ان سے پوچھا الفاظ وترزَقُونَ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۱۰۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔