صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 7 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 7

صحيح البخاری جلده ۵۳ - کتاب الصلح بین الناس مراد لی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ بن اُبی کے پاس دعوت و تبلیغ کی غرض سے تشریف لے گئے تھے۔جس کا تعلق اصلاح عقیدہ و عمل سے ہے اور اس اعتبار سے اس روایت کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اور آپ اہل قباء کے پاس بھی مصالحت ہی کی غرض سے تشریف لے گئے تھے۔دیکھئے روایت نمبر ۲۶۹۳۔بَاب ٢ : لَيْسَ الْكَاذِبُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وہ جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے ٢٦٩٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۲۶۹۲ عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صالح صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ (بن) کیان) سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔حمید بن عبد الرحمن نے انہیں خبر دی کہ اُن کی والدہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ نے انہیں بتایا۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: وہ جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ صلح کرا تا ہے اور بھلی بات کسی کی طرف منسوب کرتا النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا أَوْ يَقُوْلُ خَيْرًا۔ہے یا ( فرمایا : ) بھلی بات کہتا ہے۔عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنْ أُمَّهُ أَم كلثوم بِنْتَ عُقْبَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ تشریح: لَيْسَ الْكَاذِبُ الَّذِى يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ : ایک مشہور مقولہ ہے: الْغَايَةُ تَبَرُّ الْوَسِيْلَةَ غرض وسیلہ کو جائز قرار دیتی ہے۔یعنی غرض اچھی ہو تو اُسے حاصل کرنے کے لئے ناجائز وسائل اختیار کئے جاسکتے ہیں اور یہ وسائل بھی درست سمجھے جائیں گے۔یہ ایک مشہور مقولہ ہے جس پر مغربی ممالک کی سیاست کا محور ہے۔یہ قول مکاولی ( Machiavelli) کی طرف منسوب ہے جو اٹلی کا باشندہ تھا اور اس کے نام سے مشہور ہوا۔اس مقولہ سے خطر ناک سے خطر ناک جرائم کا ارتکاب روا رکھا گیا۔(تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب الاجرام السیاسیة ) اسلام ناجائز وسائل اختیار کرنے کے قطعی خلاف ہے۔غرض کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، نا جائز وسائل نہیں اختیار کئے جاسکتے۔مندرجہ بالا روایت کے غلط مفہوم کا ازالہ کیا گیا ہے۔جھوٹا شخص لوگوں میں صلح نہیں کر سکتا کیونکہ دروغ گو کی قلعی جلد کھل جاتی ہے اور کاذب کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔خود حدیث مندرجہ باب نے مفہوم واضح کر دیا ہے کہ بوقت صلح اگر کسی فریق سے متعلق اس خیال کا اظہار کیا جائے کہ آئندہ وہ اس غلطی کا اعادہ نہیں کرے گا یا فلاں فلاں بات میں اُس کے ساتھ حسن سلوک کرے گا اور فریقین میں صلح ہو جائے۔لیکن جس فریق کی نسبت یقین دلا کر دوسرے فریق کو صلح پر آمادہ کیا گیا ہے، اُس سے متعلق نیک توقعات پوری نہ ہوں تو صلح کرانے والے کو کا ذب نہیں کہیں گے۔فَيَنْمِی خَيْرًا اَوْ