صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 244
صحيح البخاری جلده ۲۴۴ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي حَصِيْن اور محمد بن جحادہ نے یہ حدیث ( عثمان بن عاصم ) اطرافه: ٢٨٨٧، ٦٤٣٥ ابو حصین سے مرفوعاً نہیں موقوف روایت کی ۔ ۲۸۸۷ : وَزَادَنَا عَمْرٌو قَالَ أَخْبَرَنَا ۲۸۸۷ اور عمرو (ابن مرزوق ) نے سند میں زیادہ ہم عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ سے بیان کیا ، کہا: عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے أَبِيهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہمیں خبر دی کہ ان کے باپ سے مروی ہے۔ انہوں عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے ابو صالح سے، البوصالح نے حضرت ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَم آپ نے فرمایا: بد بخت ہے درہم و دینار کا بندہ اور کمبل وَعَبْدُ الْخَمِيْصَةِ إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ والا بندہ۔ اگر اسے دیا جائے تو خوش ہے اور نہ دیا لَّمْ يُعْطَ سَخِطَ تَعِسَ وَانْتَكَسَ وَإِذَا جائے تو ناراض ۔ بد نصیب ہوا اور خائب و خاسر ہوا شِيْكَ فَلَا انْتَقَشَ طُوبَى لِعَبْدِ آخِذِ اور اگر کسی کے کانٹا لگے تو نہ نکالے۔ خوش نصیب ہے بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَشْعَثَ وہ بندہ جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے رَأْسُهُ مُغْبَرَةٍ قَدَمَاهُ إِنْ كَانَ فِي تیار رہے، سر پراگندہ ہو اور پاؤں غبار آلودہ ، اگر وہ الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ وَإِنْ كَانَ پہرے پر مقر ہو تو پہرہ دے رہا ہو اور اگر فوج کے فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ إِنِ اسْتَأْذَنَ پچھلے حصہ میں ہو تو پچھلے حصہ میں رہے۔ اگر وہ اندر آنے کی اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ دی جائے۔ لَمْ يُؤْذَنْ لَّهُ وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَعْ قَالَ اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے۔ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَرْفَعَهُ إِسْرَائِيلُ ابو عبد الله (امام بخاری ) نے کہا: اسرائیل اور محمد بن جمادہ وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي حَصِيْنٍ نے یہ حدیث ابوھین سے مرفوعاً روایت نہیں کی۔ اور وَقَالَ تَعْسًا كَأَنَّهُ يَقُوْلُ فَأَتْعَسَهُمُ اللهُ ، اللہ تعالیٰ کے قول فَتَعْسا سے یہ مراد ہے کہ اللہ ان کو طُوبَى فُعْلَى مِنْ كُلِّ شَيْءٍ طَيِّبِ وَهِيَ سرنگوں کر دے۔ طوبی فعلی کا وزن ہے۔ یعنی يَاءٌ حُوَلَتْ إِلَى الْوَاوِ وَهِيَ مِنْ يُطِيبُ نہایت پاکیزہ ترین سے جو خوشگوار ہو لفظ طیب کی یاء واؤ میں تبدیل کی گئی اور یہ طَابَ يَطِيبُ سے اطرافه: ٢٨٨٦، ٦٤٣٥۔ مشتق ہے۔