صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 241 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 241

صحيح البخارى جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير قَسَمَ مُرُوْطًا بَيْنَ نِسَاءٍ مِنْ نِسَاءِ کی بعض عورتوں کے درمیان اوڑھنیاں تقسیم کیں تو الْمَدِينَةِ فَبَقِيَ مِرْطٌ جَيْدٌ فَقَالَ لَهُ ایک عمدہ اوڑھنی بیچ رہی۔جولوگ ان کے پاس تھے، بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ ان میں سے کسی نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أَعْطِ هَذَا ابْنَةَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله کی اس بیٹی کو دے دیں جو آپ کے پاس ہیں۔ان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي عِنْدَكَ يُرِيْدُوْنَ کی مراد اُم کلثوم بنت علی تھیں۔حضرت عمر نے کہا: أُمَّ كُلْتُوْمٍ بِنْتَ عَلِي فَقَالَ عُمَرُ امّ سليط زیادہ حقدار ہیں اور ام سلیط ان انصاری أُمُّ سَلِيْطٍ أَحَقُّ وَأُمُّ سَلِيْطٍ مِنْ نِسَاءِ عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔حضرت عمر نے کہا: اُحد کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمَرُ فَإِنَّهَا جنگ میں مشکیں لاد لاد کر ہمارے پاس لاتی تھیں۔كَانَتْ تَزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ يَوْمَ أُحُدٍ الوعد الله (امام بخاری) نے کہا: تَزْفِرُ کے معنی ہیں قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ تَزْفِرُ تَخِيْطُ۔تحيط یعنی سیتی ہے۔طرفه: ٤٠٧١۔باب ٦٧ : مُدَاوَاةُ النِّسَاءِ الْجَرْحَى فِي الْغَزْو جنگ میں عورتوں کا زخمیوں کا علاج معالجہ کرنا ۲۸۸۲ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۲۸۸۲ علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ بشر بن حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضْلِ حَدَّثَنَا خَالِدُ مفضل نے ہم سے بیان کیا کہ خالد بن ذکوان نے ابْنُ ذَكْوَانَ عَنِ الرُّبَيْعِ بِنْتِ مُعَوّذ ہمیں بتایا کہ ربیع بنت معوذ سے مروی ہے کہ وہ کہتی قَالَتْ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہم زخمیوں کو وَسَلَّمَ نَسْقِي وَنُدَاوِي الْجَرْحَى وَنَرُدُّ پانی پلاتیں اور ان کا علاج معالجہ کرتیں اور لاشوں کو الْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ۔اطرافه: ۲۸۸۳، ٥٦٧٩ مدینہ واپس لے جاتیں۔