صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 240
صحيح البخاری جلده ۲۴۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ٦٥ : غَزْرُ النِّسَاءِ وَقِتَالُهُنَّ مَعَ الرّجَالِ مردوں کے ساتھ عورتوں کا جنگ کے لئے نکلنا اور ان کا لڑنا ۲۸۸۰ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا :۲۸۸۰ ابو معمر نے ہمیں بتایا۔عبدالوارث نے ہم عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ سے بیان کیا کہ عبدالعزیز نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہ انہوں نے کہا: جب اُحد کی جنگ ہوئی تو لوگ شکست کھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو گئے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ حضرت انس کہتے تھے: میں نے حضرت عائشہ بنت بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا ابی بکر اور حضرت ام سلیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوْقِهِنَّ تَنْقُزَانِ کران دونوں نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا ہوا تھا۔کہ الْقِرَبَ وَقَالَ غَيْرُهُ تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ ان کی پازیبیں مجھے نظر آرہی تھیں۔وہ مشکیں بھر بھر کر عَلَى مُتَوْنِهِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ دے رہی تھیں اور دوسرے راوی نے کہا کہ اپنی پیٹھوں الْقَوْمِ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَانِهَا ثُمَّ تَجِيْنَانِ پر مشکیں لا رہی تھیں۔پھر وہ لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتی تھیں۔پھر واپس جاتی تھیں۔پھر ان کو بھر نہیں اور پھر آتی تھیں اور لوگوں کے منہ میں پانی ڈالتی تھیں۔فَتَفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ۔اطرافه: ۲۹۰۲، ٣٨۱۱، ٤٠٦٤۔بَاب ٦٦ : حَمْلُ النِّسَاءِ الْقِرَبَ إِلَى النَّاسِ فِي الْغَزْوِ جنگ میں عورتوں کا مشکوں کو لوگوں کے پاس اُٹھا کر لانا ۲۸۸۱ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا :۲۸۸۱ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ { عبد اللہ عَبْدُ اللهِ } أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ ( بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کیا ہم یونس نے ہمیں شِهَابٍ قَالَ ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكِ بتایا۔ابن شہاب سے روایت ہے کہ ثعلبہ بن ابی مالک إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ الفاظ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ فتح البارى مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء 4 حاشیہ صفحہ ۹۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔