صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 6 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 6

۵۳ - كتاب الصلح صحيح البخاری جلده سوال اُٹھایا ہے کہ مذکورہ واقعہ کے وقت عبد اللہ بن اُبی بن سلول مسلمان نہیں تھا اور لڑائی میں ایک فریق مسلم تھا اور دوسرا غیر مسلم - مشار الیہ آیت میں تو مومنوں کی لڑائی پر صلح کرانے کا ذکر ہے۔ابن بطال کا اعتراض بیان کر کے امام ابن حجر نے اس اشکال کو اور مضبوط کیا ہے کہ حضرت انس کی مذکورہ بالا روایت حضرت اسامہ بن زید سے بھی مروی ہے۔اس میں صراحت ہے کہ مذکورہ بالا جھگڑا غزوہ بدر سے پہلے کا ہے۔جب عبداللہ بن ابی اور اُس کے ساتھی بحالت کفر تھے۔علاوہ ازیں حضرت اُسامہ کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ۔۔۔۔(بخاری، کتاب التفسير، باب ۱۵، روایت نمبر ۴۵۶۶) یعنی مسلمانوں اور مشرکوں میں گالی گلوچ ہوئی۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۶۸،۳۶۷) محولہ بالا آیت سورۃ الحجرات کی ہے جس کا نزول 9ھ میں ہوا۔اس سے بھی ظاہر ہے کہ جس راوی نے حضرت انس سے بیان کیا کہ آیت واقعہ مذکورہ کے تعلق میں نازل ہوئی تھی ؟ اُس کی مراد محض تطبیق تھی جو شارحین کے نزدیک درست اجتہاد نہ تھا۔پوری آیت یہ ہے: وَاِنْ طَائِفَتنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۚ فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ) (الحجرات ۱۰) یہ آیت بھی اصلاح ذات البین کے تعلق میں ایک اصولی ہدایت پر مشتمل ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس بارہ میں فرمایا ہے:۔اگر دو قومیں مسلمانوں میں سے آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی آپس میں صلح کرا دو؛ یعنی دوسری قوموں کو چاہیے کہ بیچ میں پڑ کر ان کو جنگ سے روکیں اور جو وجہ جنگ کی ہے اس کو مٹائیں، اور ہر ایک کو اس کا حق دلائیں۔لیکن اگر باوجود اس کے ایک قوم بازنہ آئے اور دوسری قوم پر حملہ کر دے اور مشتر کہ انجمن کا فیصلہ نہ مانے تو اس قوم سے جو زیادتی کرتی ہے، سب تو میں مل کر لڑو یہاں تک کہ خدا کے حکم کی طرف وہ لوٹ آئے یعنی ظلم کا خیال چھوڑ دے۔پس اگر وہ اس امر کی طرف مائل ہو جائے تو ان دونوں قوموں میں پھر صلح کرا دو مگر انصاف اور عدل سے اور مروت سے کام لو۔اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(احمدیت یعنی حقیقی اسلام - انوار العلوم جلد ۸ صفحه ۳۱۴۷۳۱۳) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت کریمہ کی روشنی میں حکومتوں کے آپس کے تعلقات اور اصلاح بین الناس کے مختلف پہلوؤں کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھئے: احمدیت یعنی حقیقی اسلام زیر عنوان حکومتوں کے آپس کے تعلقات - انوار العلوم جلد ۸۔یہ وہ اصل ہے جسے جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز ( مجلس اقوامِ عالم ) کی شکل میں اپنایا گیا اور پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد کونسل آف یونائیٹڈ نیشنز ( مجلس متحدہ اقوامِ عالم کی شکل میں ایک نئی طرح ڈالی گئی ہے۔اور جو بنیادی نقص اس میں ابھی تک موجود ہے، اس کی وضاحت مذکورہ بالا کتاب میں کی گئی ہے۔محولہ بالا دونوں آیتوں کا تعلق بھی مجالس امن و صلح سے ہے اور اسی وجہ سے ان کا ذکر کتاب الصلح کی تمہید میں اکٹھا کر کے شروع ہی میں اصلح سے اصلاح