صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 236
صحيح البخاری جلده ۵۶- كتاب الجهاد والسير کے سوار ہونے سے تیز رفتار ہو گیا۔باب ۵۴، ۵۵ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اچھے سوار تھے۔باب ۵۶ تا ۵۸ سے ظاہر ہے کہ گھوڑے سدھائے اور تیار کئے جاتے تھے۔گھوڑ دوڑ کے ذریعہ بہترین گھوڑے اور اچھے سواروں کی مشق اور شناخت ہوتی ہے۔اضمار کے معنی ہیں دُبلا کرنا۔گھوڑے کو اصطبل میں چند روز باندھ کر کھلایا پلایا جاتا ہے۔جب وہ موٹے تازے ہو جاتے ہیں تو پھر ان پر جھول ڈال کر خوراک کم کر دی جاتی ہے اور پسینہ لایا جاتا ہے۔جس سے وہ دُبلے پتلے اور سبک رفتار اور تیز ہو جاتے ہیں۔یہ طریقہ اضمار کہلاتا ہے۔ضامِر پتلے جسم والے گھوڑے کو کہتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۸۹) (لسان العرب - ضمر) ایسے تیار شدہ گھوڑے پسند کئے جاتے تھے۔أَضْمَر سے اسم مفعول مُضْمَرٌ آتا ہے۔ثَنِيَّةُ الْوَدَاع مدینہ کے قریب ایک گھائی کا موڑ ہے جہاں مسافر کو الوداع کہنے کے لئے لوگ جایا کرتے تھے۔حَفْيَاء ثنية الوداع سے چھ سات میل کے فاصلہ پر ہے اور بنو زُریق خزرج کا قبیلہ تھا۔ان کی بستی کا نام بھی یہی ہے۔(دیکھئے عمدۃ القاری شرح کتاب الصلاة، باب هل يقال مسجد بني فلان، جزء صفحه ۱۵۹) لفظ أمد ظرف مکان بھی ہے اور ظرف زمان بھی۔اس سے مراد ہے انتہائی حد۔ان ابواب کا تعلق در اصل ارشاد باری تعالى وَاعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُمُ مِنْ قُوَّةٍ وَّمِنُ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ به عدو اللهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِيْنَ مِنْ دُونِهِمْ (الأنفال: 1) کی تعمیل سے ہے۔اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا اسوہ پیش کیا گیا ہے۔ان کے گھوڑے اچھی حالت میں رکھے جاتے تھے اور ساز وسامان بھی پورا ہوتا تھا اور ریاضت کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔اس کے برعکس آج کل گھوڑ دوڑ قمار بازی کا مشغلہ اور لوگوں کی جیبوں پرڈاکہ زنی کے مترادف ہے۔خدمت وطن کے خیال کا اس میں شائبہ تک نہیں۔پبلک سٹیڈیم قمار خانے ہیں جو بہتوں کے افلاس اور چند اشخاص کی تو نگری اور عیاشی کا ذریعہ ہیں۔اس تعلق میں باب ۴۵ بھی دیکھئے۔ساز و سامان اور پوری تیاری کے بغیر جہاد کا فریضہ کیونکر ادا ہو۔جہاد کا خیال مسلم اقوام میں زندہ تو ہے مگر ایک لمبے عرصہ سے اس کے لیے تیاری میں سخت غفلت برتی گئی ہے۔جبکہ غیر مسلم اقوام اس میں ان سے سبقت لے گئی ہیں۔مسلمانوں کے زوال کا ایک بڑا سبب یہ ہوا ہے کہ انہوں نے اسلامی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ بھلا دیا ہے اور تو کل و تقدیر سے متعلق غلط خیالات نے ان کی جگہ لے لی ہے۔بعض شارحین ان ابواب کی شرح کرتے ہوئے فقہی جواز یا عدم جواز کی بحث میں داخل ہو گئے ہیں۔لیکن ان ابواب کا تعلق فقہی مسائل سے نہیں۔فوجی ساز و سامان، جنگی تیاری مثل اضمار وریاضت کی ضرورت سے متعلق تو سب فقہاء کا اتفاق ہے کہ امام بخاری کا مقصد ان امور کی طرف توجہ دلانا ہے۔ترجمه حضرت خليفة المسيح السابع : اور جہاں تک تمہیں توفیق ہو اُن کے لیے تیاری رکھو، کچھ قوت جمع کر کے اور کچھ سرحدوں پر گھوڑے باندھ کر۔اس سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن اور ان کے علاوہ دوسروں کو بھی مرعوب کرو گے۔“