صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 235
صحيح البخاری جلده ۲۳۵ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير زمانے میں حیرت انگیز صورت میں پورا ہوا ہے کہ چاند تک پرواز کی قدرت حاصل ہوگئی ہے۔امام بخاری نے اس آیت کے حوالے سے عنوانِ باب میں مشار الیہ روایات رو کی ہیں اور بتایا ہے کہ عورت ہو یا جانور تمام مخلوقات اچھی غرض سے پیدا کی گئی ہے اور وہ منحوس نہیں۔باب ۵۰،۴۹ نیز باب ۵۵ تا ۵۸ سے بتایا گیا ہے کہ جانوروں کی عادتیں درست کی جاسکتی ہیں اور خود سر جانور قابو میں لایا جا سکتا ہے۔وعلی ہذا القیاس ہر قابل اصلاح شئے کی اصلاح ہو سکتی ہے۔یہ تمام روایتیں پیش کرتے ہوئے عورت وغیرہ کی نحوست کے متعلق خیال کا رڈ کیا گیا ہے۔نحوست دراصل انسان کے سوءِ تصرف اور جہالت کا نتیجہ ہے۔ورنہ ساری کائنات عالم منبع فیوض ربانیہ ہے۔سِهَامُ الْفَرَس : باب ۵۱ روایت نمبر ۲۸۶۳ میں امام مالک کے جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے وہ موطا میں ہے۔۔قرآن مجید کی محولہ بالا آیت کی رو سے جنس خیل میں خچر، ٹو، گدھا، اصیل، غیر اصیل اور مخلوط نسل کے گھوڑوں کی سب قسمیں شامل ہیں۔اس لئے مال غنیمت میں سے سوار مجاہد کے لئے حصہ پیارے کی نسبت تین گنا ہے کہ اسے اپنے جانور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔دو حصے جانور کے اور ایک حصہ اس کے مالک کا۔وَلَا يُسْهَمُ لِأَكْثَرَ مِنْ فَرَسٍ : یہ قول بھی امام مالک کے مذکورہ بالافقوے ہی کا حصہ ہے۔دار قطنی نے ابوعمرہ کی ایک روایت نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں : أَسهَمَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِفَرَسِي أَرْبَعَةَ أَسْهُم وَلِي سَهُما فَأَخَذْتُ خَمْسَةَ أَنهم کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھوڑے کے لئے چار حصے اور مجھے ایک حصہ دیا۔اس طرح میں نے پانچ حصے پائے۔یہ روایت کمزور ہے۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۸۴ ) جمہور کا مذہب وہی ہے جو امام مالک كا - لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةُ أَسْهُم سَهُمْ لَهُ وَسَهُمَانِ لِفَرَسِهِ قطع نظر اس سے کہ مجاہد لڑائی میں بذات خود شریک ہوا ہو یا بطور کمک محفوظ نفری میں رہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک لِلْفَارِسِ سَهُمَانِ سَهُمْ لَهُ وَسَهُمْ لِفَرَسِهِ - سوار کے لئے دو حصے، ایک حصہ اس کا اور ایک حصہ اس کے جانور کا ہے مذکورہ بالا اختلاف حصص کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔باب ۵۲ تا ۵۵ نیز باب ۶۱،۵۹ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری اور ان جانوروں کا ذکر ہے جن پر آپ سوار ہوا کرتے تھے۔روایت نمبر ۲۸۷۴ کے لئے روایت نمبر ۲۸۶۴ بھی دیکھئے۔اس امر میں یہ زیادت ہے کہ آپ غزوہ حنین میں سفید خچر پر سوار تھے۔باب ۵۳ ضمنی ہے۔گھوڑے، اونٹ اور خچر کے ساز و سامان زین، کجاوے اور پالان کا ذکر ہے۔رکاب زین کا اور غرز کجاوے کا حصہ ہے جو بطور رکاب کام دیتی ہے۔غرز چمڑے کی ہوتی تھی۔گھوڑا سوار اور غیر سوار کو پہنچانتا ہے۔وہی گھوڑا جو حضرت ابوطلحہ کا تھا اور زخمی ہونے کی وجہ سے سُست رفتار تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مؤطا امام مالک، کتاب الجهاد، باب القسم للخيل في الغزو) دار قطنی، کتاب السیر، روایت نمبر ۱۶) بداية المجتهد، كتاب الجهاد الجملة الثانية، الفصل الثاني، جزء اول صفحہ ۲۸۸)