صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 234 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 234

صحيح البخارى جلده - ۴۳۴۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير حضرت ابو قتادہ کے گھوڑے کا نام الْجَرَادَةُ آیا ہے۔الْجَرَادَةُ اسم جنس ہے اور اسم توصیفی بھی بمعنی نڈی یعنی اڑنے والا حملہ آور اور چٹ کر جانے والا۔(لسان العرب - جرد) إِنَّمَا السُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ باب ۴۷ کے عنوان سے ان روایات کی طرف اشارہ ہے جو گھوڑے ،عورت اور مکان کی نحوست کے بارہ میں وارد ہوئی ہیں۔روایت نمبر ۲۸۵۸ کے الفاظ إِنَّمَا الشُّنُومُ فِي ثَلَاثَةٍ۔۔۔مين إِنَّمَا حصر کے لئے نہیں جیسا کہ روایت نمبر ۲۸۵۹ کے الفاظ اِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ سے ظاہر ہے کہ نحوست کسی شئے کا طبعی لازمہ نہیں۔اگر ہو تو تین اشیاء میں ہو سکتی ہے جن میں سے پہلی اور دوسری تربیت ناقص ہونے کی وجہ سے منحوس ہوگی اور مکان کا موقع محل یا اس کی تعمیر میں نقص ہو تو وہ صحت افزا نہیں ہوگا۔باب ۴۸ میں گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کی اغراض کا جو ذکر بحوالہ آیت کریمہ کیا گیا ہے، اس سے ظاہر ہے کہ ان کی پیدائش کی علت غائی اچھی ہے۔اس لئے جو نحوست یا خرابی مذکورہ بالا اشیاء میں ہوگی وہ محدود، غیر طبعی اور عارضی ہے اور اس کی اصلاح ہوسکتی ہے۔علامہ ابن حجر نے ابواب کی مذکورہ بالا ترتیب کی طرف توجہ دلا کر امام احمد بن حنبل، ابن خزیمہ اور حاکم کی روایت نقل کی ہے جو بسند قتادہ ابوحسام سے مروی ہے کہ قبیلہ بنو عامر کے دو شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ حضرت ابو ہریرہ ایسی ایسی حدیث بیان کرتے ہیں تو انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت رڈ کی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا تھا۔مَا قَالَهُ وَإِنَّمَا قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِکَ یا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا بلکہ فرمایا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ مذکورہ بالا چیزوں سے برا شگون لیتے تھے اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کرنے پر فرمایا کہ حضرت ابو ہریرہ کو یاد نہیں رہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے تو یہ فرمایا تھا: فَقَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ يَقُولُونَ السُّومُ فِي ثَلَاثَةٍ فَسَمِعَ اخِرَ الْحَدِیثِ کہ یہود ہلاک ہوں وہ کہتے ہیں کہ تین چیزوں میں نحوست ہے۔جس وقت آپ یہ فرما رہے تھے تو حضرت ابو ہریرہ اندر آئے اور انہوں نے صرف آخری الفاظ سنے۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۷۶) مزید تفصیل کے لئے عمدۃ القاری جزء ۴ صفحہ ۱۴۹ تا ۱۵۱ بھی دیکھئے۔آیت جس کا حوالہ دیا گیا ہے، یہ ہے: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (النحل: ۹) اور اس نے گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کو تمہاری سواری اور زینت کے لئے پیدا کیا ہے۔یہ آیت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر میں وارد ہوئی ہے۔آخری حصہ آیت وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ سے ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا وسائل نقل و حرکت ہی پر بس نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں اور وسائل نقل پیدا کرنے کا وعدہ بھی فرمایا اور یہ وعدہ ہمارے (مسند احمد بن حنبل حديث السيدة عائشة، جزء ۶ صفحه ۲۴۰) (المستدرك على الصحيحين، كتاب التفسير سورة الحديد، جزء۲ صفحه (۵۲) K ، ط (مسند أبي داود الطيالسي مسند عائشة رضي الله عنها، الإفراد عن عائشة، صفر ۲۱۵)