صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 231
صحيح البخاری جلده ۲۳۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةً حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ معاویہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابو الحق نے ہمیں بتایا۔حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حمید سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت يَقُوْلُ كَانَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جسے عضباء کہتے تھے۔وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهَا الْعَضْبَاءُ طرفه: ۲۸۷۲ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَصْبَاءَ لَا تُسْبَقُ قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ لَا ۲۸۷۲ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ ۲۸۷۲ مالک بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ زُہیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید سے حمید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضاء تھا۔اس سے آگے کوئی اونٹ نہیں نکل سکتا تھا۔محمید کہتے یا یوں کہا کہ ممکن نہ تھا کہ کوئی اونٹ اس تَكَادُ تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُوْدٍ سے آگے نکل سکے۔ایک بدوی (نوجوان) اونٹ پر فَسَبَقَهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ سوار آیا اور وہ اس سے آگے نکل گیا تو مسلمانوں پر یہ حَتَّى عَرَفَهُ فَقَالَ حَقٌّ عَلَى اللهِ أَنْ لَّا شاق گزرا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہچان گئے۔آپ يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِّنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ نے فرمایا: اللہ یہ ضرور کرتا ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند طَوَّلَهُ مُوْسَى عَنْ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ ہوتی ہے اسے کبھی نہ کبھی ) ضرور ہی نیچا دکھاتا ہے۔موسیٰ (بن عقبہ ) نے یہ حدیث حماد سے روایت کرتے أَنَسِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ہوئے بیان کی ہے۔حماد نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس سے ، حضرت انس نے نبی ﷺ سے۔طرفه: ۲۸۷۱۔