صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 230
صحيح البخارى جلده مود ۲۳۰ ۵۶- كتاب الجهاد والسير گئے تھے۔آپ نے ان کو حضیاء کے مقام سے چھوڑا بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ موسى بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، نافع نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سَابَقَ رَسُولُ اللهِ (حضرت عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کا مقابلہ کرایا جو گھوڑ دوڑ کے لئے تیار کئے قَدْ ضُمِّرَتْ فَأَرْسَلَهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ فَقُلْتُ اور دوڑ کی انتہائی حد ثنیۃ الوداع تھی۔میں نے موسیٰ لِمُوْسَى فَكَمْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ سِتَّةُ ( بن عقبہ) سے پوچھا: حفیاء اور ثنیہ کے درمیان کتنا أَمْيَالٍ أَوْ سَبْعَةٌ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي فاصلہ تھا؟ انہوں نے کہا: چھ یا سات میں۔اور آپ لَمْ تُضَمَّرْ فَأَرْسَلَهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نے ان گھوڑوں کا مقابلہ کرایا جو گھوڑ دوڑ کے لئے تیار نہیں کئے گئے تھے۔آپ نے ان کو ثنیہ الوداع سے چھوڑا اور ان کی انتہائی حد بنی زریق کی مسجد تھی۔وَكَانَ أَمَدُهَا مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ قُلْتُ فَكَمْ بَيْنَ ذَلِكَ قَالَ مِيْلٌ أَوْ نَحْوُهُ ابو اسحاق کہتے تھے: میں نے پوچھا ان کے درمیان وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَابَقَ فِيْهَا۔کتنا فاصلہ تھا ؟ موسیٰ نے کہا: ایک میل یا کچھ ایسا ہی۔اور ( حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی ان لوگوں میں تھے اطرافه: ٤٢٠ ، ٢٨٦٨، ٢٨٦٩، ٧٣٣٦۔جنہوں نے اس گھوڑ دوڑ میں گھوڑا دوڑایا۔باب ٥٩ : نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قَالَ ابْنُ عُمَرَ أَرْدَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ ( حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ عَلَى الْقَصْوَاءِ نے اسامہ کو قصواء اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھا لیا اور حضرت وَقَالَ الْمِسْوَرُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ مور نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصواء عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَلَاتِ الْقَصْوَاءُ۔اڑی نہیں۔۲۸۷۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۲۸۷۱ عبدالله بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا کہ