صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 5 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 5

صحيح البخاری جلده A ۵۳ - کتاب الصلح تعلق باللہ ہے۔لفظ صلح کا اطلاق ہر قسم کے تعلق کی صحت اور استواری پر ہوتا ہے۔فقہاء نے تنازعات کی نوعیت کے اعتبار سے صلح کی چند قسمیں بیان کی ہیں۔خاوند بیوی کی صلح ، افراد خاندان کی صلح، ہمسایہ سے صلح ، مالی تنازعات میں فریقین کی صلح ، معاملات قصاص میں صلح مسلم و غیر مسلم کی مسلح، باغی حکومت کی صلح ، قوموں اور ملکوں کی صلح۔تقسیم محض نسبتی اور اعتباری ہے۔صلح کا دائرہ من حیث الافراد اور من حیث المجموع معاشرہ بشریہ پر حاوی ہے۔آئندہ ابواب میں اس کا مفصل بیان آئے گا۔خُرُوجُ الْإِمَامِ إِلَى الْمَوَاضِعِ لِيُصْلِحَ: تمہید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کیا گیا ہے کہ مطابق مثل ” قضیہ زمین بر سر زمین آپ موقع نزاع پر خود تشریف لے جاتے اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی کراتے تھے۔امام جماعت کے فرائض منصبی میں سے ہے کہ وہ افراد معاشرہ کی نگرانی رکھے اور جہاں رخنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، انسداد کا خاطر خواہ انتظام کرے۔یہ نہ ہو کہ اپنا چنگل مضبوط رکھنے کے لئے ایک کو دوسرے سے الجھائے رکھے جو فرعون کی پالیسی تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ ابْنَاءَ هُمْ وَيَسْتَحْيِ نِسَاءَ هُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ) (القصص :(۵) یعنی فرعون نے (اپنے ) ملک میں بڑی تعلی سے کام لیا اور اُس کے رہنے والوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔جس سے وہ ایک گروہ کو کمزور کرنا چاہتا تھا۔اسی طرح ط اُن کے بیٹوں کو قتل کرتا تھا اور اُن کی عورتیں زندہ رکھ کر ( بطور کنیز ) استعمال کرتا تھا۔وہ یقیناً مفسد لوگوں میں سے تھا۔لفظ اصلح اور اصلاح کی ضد فساد اور افساد ہے یعنی بگاڑنا۔کتاب الصلح کی پہلی روایت (نمبر ۲۶۹۰) کے لئے كتاب العمل في الصلاة باسے روایت نمبر ۱۲۰ دیکھئے ، جہاں بنو عمرو بن عوف میں صلح کرانے کا ذکر ہے۔بنو عمر و بن عوف قبیلہ اوس کی شاخ تھی۔یہ لوگ قباء میں آباد تھے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۶۸) اس فساد میں یہودیوں کا ہاتھ تھا جو گندے پانی میں شکار کرنے کے عادی ہو چکے تھے۔ایک قبیلے کو دوسرے قبیلے کے خلاف اکسا کر پھر حلیف اپنے حلیف قبیلہ کا حمایتی بن جاتا اور مال وغیرہ سے مدد دے کر اُسے زیر بار کرتا اور سُود سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُن پر اپنا اقتصادی تسلط جمائے رکھتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے جو میثاق ملی طے ہوا۔انہوں نے اسے در حقیقت اپنے مفاد کے منافی پایا۔اس لئے وہ موقع کی تلاش میں رہتے کہ پھر خانہ جنگی کو اکسا کر صورت مداہنہ کسی نہ کسی طرح قائم ہو جائے۔عبداللہ بن ابی اس فتنہ کا بانی مبانی تھا۔دوسری روایت ( نمبر ۲۶۹) میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ الگ ہے۔عبداللہ بن اُبی اور حضرت سعد بن عبادہ کا قبیلہ خزرج میں سے تھا جو عالیہ میں آباد تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کے صحابہ میں سے بعض نے خواہش کی کہ عبداللہ بن اُبی کو تبلیغ کی جائے۔ہوسکتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے۔جس پر آپ گئے تو اُس نے کہا کہ آپ کے آنے کی ضرورت نہیں۔آپ کے پاس جو آئے ، اُسے تبلیغ کی جائے اور اس کی تلخ گفتگو پر جھگڑا ہوا۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۶۷، ۳۶۸) فَبَلَغَنَا أَنَّهَا أُنْزِلَتْ : اس فقرہ میں قبلَعَنا قابل تشریح ہے۔حضرت انس کہتے ہیں کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ آیت محولہ بالا اس واقعہ کی مناسبت سے نازل ہوئی ہے۔یہ خبر دینے والے کون ہیں اس کا ذکر نہیں۔اس پر ابن بطال نے یہ