صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 228 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 228

صحيح البخاری جلده ۲۲۸ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير بَاب ٥٥ : الْفَرَسُ الْقَطُوْفُ سست رفتار گھوڑے پر سوار ہونا ) ٢٨٦٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ ۲۸۶۷ : عبدالا علی بن حماد نے ہمیں بتایا۔ یزید بن حَمَّادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا زُریع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید ( بن ابی عروبہ ) سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَزِعُوا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک بار مَرَّةً فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مدینہ والے یکایک گھبرا گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ كَانَ يَقْطِفُ أَوْ حضرت ابو طلحہ کے گھوڑے: کے پھوڑے پر سوار ہوئے جو آہستہ چلتا كَانَ فِيْهِ قِطَافٌ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ تھا یا یہ کہا کہ جس کی رفتار سست تھی ۔ جب آپ لوٹے تو آپ نے فرمایا: ہم نے تو تمہارے اس وَجَدْنَا فَرَسَكُمْ هَذَا بَحْرًا فَكَانَ بَعْدَ گھوڑے کو ایک دریا پایا ہے۔ اس کے بعد اس ذَلِكَ لَا يُجَارَى۔ گھوڑے کا چلنے میں کوئی مقابل نہ رہا۔ اطرافه: ۲۶۲۷، ۲۸۲۰، ٢٨٥٧، ٢٨٦٢، ٢٨٦٦ ، ٢٩٠٨ ، ٢٩٦٨، ٢٩٦٩، ٣٠٤٠، ٦٠، ٦٢١٢۳۳ بَاب ٥٦ : السَّبْقُ بَيْنَ الْخَيْلِ گھوڑ دوڑ کا بیان ٢٨٦٨: حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ حَدَّثَنَا :۲۸۶۸ قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری ) سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ سے، عبیداللہ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَجْرَى نے نافع ہے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ضُمِّرَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جو گھوڑے تیار کئے مِنَ الْخَيْلِ مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ گئے تھے، ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضیاء سے الْوَدَاعِ وَأَجْرَى مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ ثنية الوداع تک دوڑایا اور جو تیار نہیں کیے گئے تھے إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ ۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ ان كو ثنية الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑایا۔