صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 224
صحيح البخاری جلده ۲۲۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ قَامَ عَلَيَّ فَقَالَ لِي جس کا رنگ خاکی تھا؟ کوئی داغ نہ تھا اور لوگ میرے النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ پیچھے تھے۔ میں اسی طرح جارہا تھا کہ وہ اونٹ اڑ گیا۔ اسْتَمْسِكْ فَضَرَبَهُ بِسَوْطِهِ ضَرْبَةً میرے چلانے سے نہ چلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ فَوَثَبَ الْبَعِيرُ مَكَانَهُ فَقَالَ أَتَبِيعُ سے کہا: جابر اسے تھا مو۔ یہ کہ کر آپ نے اس کو اپنے الْجَمَلَ قُلْتُ نَعَمْ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ کوڑے کی ایک ضرب لگائی تو وہ اونٹ اپنی جگہ سے کود وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کر چل پڑا ۔ آپ نے فرمایا: کیا اس اونٹ کو بیچتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں بیچتا ہوں۔ جب ہم مدینہ پہنچے اور الْمَسْجِدَ فِي طَوَائِفِ أَصْحَابِهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی صحابہ کے ساتھ مسجد میں فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ وَعَقَلْتُ الْجَمَلَ فِي داخل ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ گیا اور اس نَاحِيَةِ الْبَلَاطِ فَقُلْتُ لَهُ هَذَا جَمَلَكَ اونٹ کو مسجد کے سامنے پتھر کے فرش کے ایک کونے فَخَرَجَ فَجَعَلَ يُطِيْفُ بِالْجَمَلِ وَيَقُوْلُ میں باندھ دیا اور میں نے آپ سے کہا: یہ آپ کا اونٹ الْجَمَلُ جَمَلُنَا فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ہے۔ آپ باہر نکلے اور اس اونٹ کے ارد گرد پھر کر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ فرمایا: یہ اونٹ ہمارا اونٹ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَعْطُوهَا جَابِرًا ثُمَّ قَالَ اسْتَوْفَيْتَ نے سونے کے کئی اوقئے بھیجے اور فرمایا: یہ جابر کو دے الثَّمَنَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ الثَّمَنُ وَالْجَمَلُ دو۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم نے قیمت پوری کی پوری لے لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا: لَكَ ۔ یہ قیمت اور یہ اونٹ تمہارا ہے۔ اطرافه : ٤٤٣ ، ۱۸۰۱ ، ۲۰۹۷، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵ ، ۲۳۹٤، ٢٤٠٦، ٢٤٧٠، ٢٦٠٣، ،۵۰۸۰ ،۵۰۷۹ ،۴۰۵۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲۹٢٦٠٤ ، ٢٧١٨، ٦٧ ٥٢٤٣، ٥٢٤٤، ٥٢٤٥، ٥٢٤٦ ، ٥٢٤٧، ٥٣٦٧، ٦٣٨٧ بَاب ٥٠ : الرُّكُوبُ عَلَى الدَّابَّةِ الصَّعْبَةِ وَالْفُحُوْلَةِ مِنَ الْخَيْلِ بے قابو جانور اور نر گھوڑوں پر سواری کرنا وَقَالَ رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ كَانَ السَّلَف راشد بن سعد نے کہا: پہلے لوگ نرگھوڑے پسند کرتے يَسْتَحِبُّوْنَ الْفُحُوْلَةَ لِأَنَّهَا أَجْرَى وَأَجْسَرُ تھے۔ کیونکہ وہ بہت تیز رفتار اور بہت دلیر ہوتے ہیں۔